
نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔
بھارت نے جمعرات کو ریاست اوڈیشہ کے چاندی پور میں واقع انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج سے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اگنی-4 (ایم آر بی ایم) کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس تجربے کے ساتھ بھارت نے دفاعی اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم کامیابی حاصل کی۔
یہ تجربہ اوڈیشہ کے ساحل پر واقع ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جزیرے سے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے انجام دیا۔ میزائل نے اپنی زیادہ سے زیادہ حدِہدف تک پرواز کرتے ہوئے مقررہ ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
اگنی سیریز کا یہ جدید، مہلک اور انتہائی درست درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا جوہری بیلسٹک میزائل ایک ہی وقت میں دشمن کے متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق، بھارت کے نیوکلیئر کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے تحت کام کرنے والی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ (ایس ایف سی) کی نگرانی میں رات کے وقت کیے گئے اس تجربے میں تمام عملی اور تکنیکی معیار کامیابی کے ساتھ جانچے گئے۔
اوڈیشہ کے چاندی پور میں واقع انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج سے داغا گیا اگنی-4 میزائل 1,000 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی حدِ مار تقریباً 4,000 کلومیٹر ہے۔ اسے روڈ موبائل لانچر سے بھی داغا جا سکتا ہے۔
سال 2012 میں اگنی-4 نے تقریباً 20 منٹ میں 3,000 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا تھا۔
ڈی آر ڈی او کے مطابق، اگنی-4 کو پہلے اگنی-2 پرائم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اگنی میزائلوں کی پوری سیریز کو ڈی آر ڈی او نے ہی ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ اگنی-5 کی تیاری کے ساتھ بھارت کے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل پروگرام نے نمایاں ترقی کی ہے۔
اگنی منصوبے سے وابستہ ایک دفاعی افسر نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت تیسرے مرحلے کو دور سے کنٹرول کرتے ہوئے دشمن کے ہدف پر انتہائی درست حملہ کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ