1.50 کروڑ روپے رشوت مانگنے کے بعد 40 لاکھ لینے کے معاملے میں جی ایس ٹی کے متعددعہدیداران گرفتار
رائے گڑھ، 31 اگست (ہ س) ۔ رائے گڑھ میں سی بی آئی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پتھر کی کھدائی کرنے والی کمپنی سے متعلق جی ایس ٹی اور رائلٹی کے معاملے کو نمٹانے کے لیے مبینہ طور پر رشوت لینے کے کیس میں سی جی ایس ٹی کے ایک ایڈیشنل کمشنر، جی ایس ٹی
Raigad GST Bribery Case


رائے گڑھ، 31 اگست (ہ س) ۔ رائے گڑھ میں سی بی آئی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پتھر کی کھدائی کرنے والی کمپنی سے متعلق جی ایس ٹی اور رائلٹی کے معاملے کو نمٹانے کے لیے مبینہ طور پر رشوت لینے کے کیس میں سی جی ایس ٹی کے ایک ایڈیشنل کمشنر، جی ایس ٹی محکمے کے ایک سپرنٹنڈنٹ اور ایک نجی شخص کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد میں جی ایس ٹی کے ایڈیشنل کمشنر ونئے کمار کانٹھیٹی، جی ایس ٹی سپرنٹنڈنٹ راکیش کمار سنہا، رائے گڑھ اور نجی شخص نریندر راجپوت شامل ہیں۔سی بی آئی کی ابتدائی جانچ کے مطابق شکایت کنندہ کی پتھر کی کھدائی کرنے والی کمپنی سے متعلق جی ایس ٹی اور رائلٹی کے معاملے کو نمٹانے کے لیے پہلے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے رشوت مانگی گئی تھی۔ بعد میں بات چیت کے بعد مبینہ طور پر یہ رقم 40 لاکھ روپے پر طے ہوئی۔ الزام ہے کہ طے شدہ رشوت کی رقم نجی شخص نریندر راجپوت کے ذریعے وصول کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس کی اطلاع ملنے کے بعد سی بی آئی نے جال بچھایا اور نریندر راجپوت کو مبینہ طور پر 40 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس کے بعد جی ایس ٹی سپرنٹنڈنٹ راکیش کمار سنہا اور ایڈیشنل کمشنر ونئے کمار کانٹھیٹی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔کارروائی کے بعد سی بی آئی نے ملزمین سے متعلق مختلف مقامات پر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران 43 لاکھ روپے نقد اور تقریباً 90 لاکھ روپے مالیت کے زیورات ضبط کیے جانے کی اطلاع ہے، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ سی بی آئی اب اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ اس مبینہ رشوت خوری کے معاملے میں کسی اور شخص یا افسر کا بھی تعلق ہے یا نہیں۔ رشوت کی رقم سے متعلق مالی لین دین، متعلقہ افسران کے کردار اور ضبط کی گئی نقد رقم اور زیورات کے ذرائع کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande