
حیدرآباد، 31 اگست (ہ س) ۔ تلنگانہ میں ایک نئے سیاسی تنازعہ نے جنم لیاہے، جہاں اپوزیشن نے الزام عائدکیاہے کہ ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی نے ٹیسراکٹ (Tesseract) نامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیاہے، جسے تلنگانہ کے وزیراعلی ریونت ریڈی کے بھائی کونڈا ریڈی سے جوڑاجارہا ہے۔
اپوزیشن کاکہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری لانے کی کوششوں کے دوران ایک ایسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیاگیا جو واضح طورپر وزیراعلی کے بھائی سے وابستہ ہے۔ اس معاملے نے معاہدے کی شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
الزامات کے مطابق ریونت ریڈی نے داووس میں اسرائیلی وفد سے ملاقات کی تھی، جبکہ ان کے بھائی کونڈاریڈی نے بھی اسرائیلی وفد کے نمائندوں سے الگ ملاقات کی۔ اس کےبعد اسرائیلی دفاعی کمپنی اور ٹیسراکٹ کے درمیان معاہدہ طے پایا۔
اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایاہے کہ اگر اسرائیل سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری آرہی ہے تواس معاہدے کے لیے وزیراعلی کے بھائی سے مبینہ طور پروابستہ کمپنی کا انتخاب کیوں کیا گیا۔
اس معاملے نے ٹیسراکٹ کو اراضی کی مبینہ الاٹمنٹ سے متعلق پرانے تنازعہ کو بھی دوبارہ اجاگر کردیاہے۔ اپوزیشن کاالزام ہے کہ کانگریس حکومت نے ٹیسراکٹ کوایسی اراضی الاٹ کی جس کی مالیت تقریباً135 کروڑ روپے تھی، لیکن اسے مبینہ طور پرصرف7 کروڑ روپے میں دیاگیا۔
اس سے قبل ریاستی وزیر دودھیلا سری دھر بابونے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیسراکٹ کمپنی اورکونڈا ریڈی کے درمیان تعلق سے متعلق الزامات کو مستردکرنے اورحکومت کا موقف واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔
اب اپوزیشن رہنماؤں نے اسرائیلی دفاعی کمپنی کے ساتھ ہونے والے تازہ معاہدے کوحکومت اور کونڈاریڈی کی کمپنی کے درمیان مبینہ تعلق کا نیا ثبوت قرار دیاہے۔
اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ معاہدے، کمپنی کی وابستگی اور اراضی الاٹمنٹ سمیت تمام معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔دوسری جانب،حکومت اورمتعلقہ کمپنیوں کی جانب سے تازہ الزامات پرتفصیلی ردعمل سامنے آناباقی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق