”نئے پرانے چراغ“ چوتھے روز ادب، تحقیق، تخلیق اور مشاعرے کا حسین امتزاج
نئی دہلی 31 ، اگست(ہ س )۔ اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام جاری پانچ روزہ ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ کے چوتھے روز بھی مختلف ادبی نشستوں کا انعقاد ہوا۔ دن بھر جاری رہنے والے ان اجلاسوں میں تنقیدی و تحقیقی مباحث، تخلیقی اظہار اور شعری نشست نے ادب
”نئے پرانے چراغ“ چوتھے روز ادب، تحقیق، تخلیق اور مشاعرے کا حسین امتزاج


”نئے پرانے چراغ“ چوتھے روز ادب، تحقیق، تخلیق اور مشاعرے کا حسین امتزاج


نئی دہلی 31 ، اگست(ہ س )۔

اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام جاری پانچ روزہ ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ کے چوتھے روز بھی مختلف ادبی نشستوں کا انعقاد ہوا۔ دن بھر جاری رہنے والے ان اجلاسوں میں تنقیدی و تحقیقی مباحث، تخلیقی اظہار اور شعری نشست نے ادبی سرگرمیوں کو مزید وسعت اور معنویت عطا کی۔ مختلف اجلاسوں میں اہلِ قلم اور ریسرچ اسکالرز نے اپنے تحقیقی و تخلیقی کام پیش کیے، جبکہ ماہرینِ ادب نے ان پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے علمی و ادبی نکات کی جانب توجہ دلائی۔

چوتھے دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس صبح 10 بجے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور پروفیسر شاہ عالم نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عمران اعظم نے انجام دیے۔

اجلاس کے دوران دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز نے اردو ادب کی نامور شخصیات، مختلف اصناف اور متنوع موضوعات پر اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالے پیش کیے۔ ان ریسرچ اسکالرز میں جناب فیض الرحمٰن نے انیس ناگی کی افسانہ نگاری: فکشن کے حوالے سے، جناب محمد انیس نے ڈیجیٹل عہد میں اردو کا فروغ، جناب اقبال احمد نے عبداللہ حسین کے ناول 'باغ' میں ناسٹالجیائی عناصر اور اس کا اطلاق، جناب عمر فاروق نے اردو اور پہاڑی کا لسانی رشتہ، جناب مقصود خان نے عمیق حنفی کی غزل گوئی، جناب ابوہریرہ نے راہی معصوم رضا کی شاعری میں گنگا کا تصور، محترمہ عائشہ افضل نے اردو ناول میں نسوانی مسائل کا شعور، جناب عامر مظفر بھٹ نے ابوالکلام ا?زاد ا?غا شورش کاشمیری کی نظر میں اور شمائلہ ملک نے اردو ادب میں خاکوں کا ابتدائی نقوش جیسے مقالات پیش کیے۔

مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر شاہ عالم نے کہا کہ ”نئے پرانے چراغ“ جیسے سمینار کا بنیادی مقصد نئے چراغوں، یعنی نئی نسل کے ریسرچ اسکالرز کی علمی و تحقیقی تربیت اور حوصلہ افزائی ہے، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اجلاس میں اسکالرز کی شرکت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسکالرز پر زور دیا کہ وہ ایسے علمی و ادبی پروگراموں کی اہمیت کو سمجھیں اور ان میں بھرپور شرکت کریں۔مقالات کی پیشکش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ محض مقالہ سن لینا کافی نہیں، بلکہ اسے توجہ اور غور سے سننے کے بعد اس پر جامع گفتگو، تنقیدی تبادلہ? خیال اور سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہونا چاہیے، تاکہ سمینار کے انعقاد کا حقیقی مقصد حاصل ہو سکے۔

پروفیسر مشتاق عالم قادری نے سمینار کے حوالے سے مقالہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے وقت کی پابندی اور سنجیدگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقالہ نگار سمینار میں وقت کی پابندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو ان کی تحقیق بھی قابلِ اعتماد نہیں رہے گی۔ اس کے برعکس اگر وہ تحقیق میں سنجیدگی، محنت اور وقت کی پابندی کو ملحوظ رکھیں تو ان کی علمی کاوشیں دیر تک یاد رکھی جائیں گی اور ایک وقت آئے گا جب وہ مستند محقق کے طور پر پہچانے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ تحقیق کا پہلا زینہ سوالات ہیں۔ جب انسان سوال کرتا ہے اور دوسروں کی تحریروں کو تنقیدی و تحقیقی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس کے اندر سیکھنے اور جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں کی جانب سے کیے گئے سوالات بھی محقق کو اپنی تحقیق کا ازسرِنو جائزہ لینے اور اپنی کمزوریوں کو تلاش کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

آخر میں پروفیسر احمد محفوظ نے ”نئے پرانے چراغ“سمینار کے مقاصد اور اس کی موجودہ صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام جس مقصد کے تحت شروع کیا گیا تھا، اس کے ابتدائی برسوں میں اس کے نہایت مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے، تاہم موجودہ صورتِ حال کسی حد تک مایوس کن دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ فن کار بھی انسان ہے اور خطا و نسیان کا پتلا ہے، اس لیے کسی ادیب کی تحریر یا کسی فن کار کی رائے کو محض اس بنیاد پر حرفِ ا?خر نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ایک معروف شخصیت کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ ایک محقق کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ تحریروں اور آرا کا گہرائی سے مطالعہ کرے، ان میں نئے پہلو تلاش کرے اور جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں تنقیدی انداز میں اپنی رائے بھی قائم کرے۔

ظہرانے کے بعد چوتھے دن کا تخلیقی اجلاس دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت جناب خورشید اکرم، ڈاکٹر ریاض عمر اور پروفیسر احمد امتیاز نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر ندیم احمد نے انجام دی۔ اجلاس میں جناب ایم رحمٰن نے مشاہدہ، ڈاکٹر شمیم اختر نے فاصلوں کا درد، ڈاکٹر نشاں زیدی نے نوسٹیلجیا، ڈاکٹر محمد مستمر نے آنگن میں منگل، ڈاکٹر محمد معین الدین نے خان صاحب ، جناب اشتیاق احمد مصباحی نے بازگشت، جناب جاوید عنبر مصباحی نے افسانہ، جناب فیصل خان نے للو میاں کی شیروانی، محمد توصیف خان نے حکمتو چرسی، محترمہ طلعت نسرین بھارتی نے میرے بچپن کا ٹیچرس ڈے، محترمہ ہما نے چوری، محترمہ ترم پروین نے روٹھ کے ایسے یار گیا وہ، محترمہ عافیہ سیفی نے قلم کی روشنی اور ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے سمبھو پاگل جیسی تخلیقات پیش کیں۔

تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تخلیقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر احمد امتیاز نے کہا کہ اردو اکادمی کا یہ پلیٹ فارم ریسرچ اسکالرز کے لیے نہایت مثبت اور کارآمد ہے، جہاں انہیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور اپنی تخلیقات پیش کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔انہوں نے تخلیق کاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ خصوصاً کہانی لکھتے وقت پلاٹ مربوط، واضح اور بامعنی ہونا چاہیے، تاکہ قاری اور سامع ا?سانی سے کہانی کے مفہوم اور اس کے مرکزی خیال کو سمجھ سکیں۔ کہانی میں غیر ضروری پیچیدگی اور ابہام سے حتی الامکان گریز کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایسے ادبی پروگراموں کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان محفلوں کے ذریعے نوجوان نسل میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، جو نہایت خوش آئند امر ہے۔ آج نوجوان افسانے اور انشائیے لکھ رہے ہیں، غزلیں پیش کر رہے ہیں اور تحقیقی مقالات بھی تحریر کرکے انہیں ادبی پلیٹ فارم پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اردو کے مستقبل کے لیے امید افزا ہے۔

جناب خورشید اکرم نے اردو میں تخلیقی اور غیر افسانوی ادب کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ افسانہ، غزل، نظم اور مضمون بڑی تعداد میں لکھے جا رہے ہیں، لیکن غیر افسانوی نثر، خصوصاً طنز و مزاح، خاکہ اور انشائیہ نسبتاً کم لکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ”نئے پرانے چراغ“ کے اس پروگرام میں غیر افسانوی نثر کی مختلف اصناف سے متعلق متعدد تحقیقی کاوشیں پیش کی گئیں، جو اس ادبی اجتماع کی وسعت اور تنوع کی عکاس ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر ریاض عمر نے تخلیقی سیشن پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً کہانی لکھتے وقت اصطلاحات کے درست اور برمحل استعمال کا خیال رکھنا چاہیے۔ بالخصوص جدید ٹیکنالوجی اور جدید نثر سے متعلق تحریروں میں عصری اصطلاحات کو مناسب طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز اور تخلیق کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی تعلیم اور علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے دوسروں تک منتقل کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ جس طرح ہمیں اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے علم حاصل ہوا ہے، اسی طرح ہمیں بھی آنے والی نسلوں تک یہ علم پہنچانا چاہیے، تاکہ علم و ادب کی یہ روایت نسل در نسل جاری و ساری رہے۔

تحقیقی و تنقیدی اجلاس کے بعد چوتھے روز کے آخری پروگرام کے طور پر محفلِ شعر و سخن کا انعقاد شام چھ بجے کیا گیا۔ محفل کی صدارت پروفیسر فاروق بخشی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض جناب فرید احمد فرید نے انجام دیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande