
نئی دہلی،29 اگست(ہ س )۔
اردو اکادمی،دہلی کے زیرِ اہتمام جاری پانچ روزہ ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ کے دوسرے دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس آج صبح 10 بجے اکادمی کے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر خواجہ اکرام الدین، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور پروفیسر شمیم احمد، سینٹ اسٹیفنس کالج، دہلی یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ترنم جبیں نے انجام دیے۔
اس اجلاس میں دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ریسرچ اسکالرز نے مختلف ادبی شخصیات، اصناف اور موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ جناب سجاد الرحمٰن نے صلاح الدین پرویز نظم: ایک منفرد شعری لہجہ، محترمہ امانہ ساجد نے بیگم انیس قدوائی کے خاکوں کا فنی و فکری جائزہ، محترمہ عارفہ ناز نے سید محمد اشرف کے ناولوں میں تہذیبی زوال کا احساس، جناب محمد صادق نے اقبال مجید کے افسانوں میں خواتین کے مسائل کی عکاسی، جناب فواد رشید نے منظر سلیم کی ناول نگاری کا اجمالی جائزہ، محترمہ وسیمہ اختر نے ترنم ریاض کا افسانوی مجموعہ 'مرا رخت سفر' میں عصری مسائل، محترمہ شزا سہیل نے ابن کنول کا افسانہ 'سوئٹ ہوم': ایک تجزیاتی مطالعہ، جناب سید معین الدین نے نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کی اردو شاعری کے امتیازات، اسمہ خاتون نے سدرشن کا افسانہ 'ہار کی جیت' کی عصری معنویت، محترمہ طوبیٰ الماس نے اردو شاعری پر سبع معلقات کے اثرات جبکہ جناب افراز خان نے نند کشور وکرم: بحیثیت ناول نگار، ناول 'یادوں کے کھنڈر' کی روشنی میں پر اپنے مقالات پیش کیے۔
مقالات کی پیشکش کے بعد اجلاس کے پہلے صدر پروفیسر شمیم احمد نے اردو اکادمی کی ادبی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے پروگرام کے مسلسل انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات یہ احساس ہوتا ہے کہ اردو کی ادبی محفلیں شاید اپنی رونق برقرار نہ رکھ سکیں، لیکن اردو اکادمی ہر سال اس طرح کے پروگرام منعقد کرکے اس خدشے کی نفی کرتی ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز کے لیے اکادمی کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”نئے پرانے چراغ“ جیسے پروگراموں نے متعدد اسکالرز کو سینئر اہلِ قلم سے متعارف ہونے اور ان سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔انہوں نے ا?ج کے تنقیدی و تحقیقی اجلاس کو موضوعات کے اعتبار سے نہایت متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں خاکہ، ناول، افسانہ، شاعری اور عربی شاعری سمیت مختلف اصناف اور ادبی شخصیات پر گفتگو ہوئی، جو اس اجلاس کی انفرادیت اور وسعتِ نظر کی عکاس ہے۔
پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اردو اکادمی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں متعدد ادبی اکادمیاں کام کر رہی ہیں، لیکن ”نئے پرانے چراغ“ جیسا قدیم، معروف اور مقبول ادبی پروگرام کسی دوسری اکادمی کے پاس نہیں ہے۔انھوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فکشن کے میدان میں بہت کام ہو رہا ہے، تاہم ادب کی متعدد اصناف ایسی ہیں جن پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔انھوںنے معیاری اردو بولنے کے لیے درست لب و لہجے اور تلفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی شعریات کے حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہندوستانی ادبی روایت کے اہم سرچشموں، خصوصاً سنسکرت، فارسی اور عربی کے مطالعے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر اردو اکادمی کیسکریٹری جناب لیکھ راج نے اردو زبان کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک ایسی وسیع اور گہری زبان ہے جو انسان کی زندگی کو سمجھنے اور جینے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ انہوں نے دہلی کی تاریخی و تہذیبی وراثت، خصوصاً شاہجہان ا?باد کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بھرپور ورثے کو نئی نسل اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے، اور اس سلسلے میں اردو زبان کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
ظہرانے کے بعد دوسرے دن کا پہلا تخلیقی اجلاس دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا، جس کی صدارت پروفیسر شاہینہ تبسم، ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا اور پروفیسر متھن کمار نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرمان چودھری نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں محترمہ رخشندہ روحی نے افسانہ ابھی کمبخت دل دھڑکتا ہے، جناب ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی نے انشائیہ زین جی، ڈاکٹر طاہرہ منظور نے افسانہ استحصال، ڈاکٹر ذاکر فیضی نے افسانہ ”اسٹوری میں دم نہیں ہے“، ڈاکٹر ابراہیم افسر نے انشائیہ ”میں پتنگ ہوں“، جناب تاج الدین محمد نے افسانہ ”بے روزگاری“، جناب نشاط حسن نے افسانے ”سہارا“، محترمہ مسرت جہاں نے افسانہ ’نگاہوں کی اذیت‘، جناب شاہنواز نے افسانہ ”نوریٹائرمنٹ“، محترمہ عزہ معین نے افسانہ ”خوب تر کی تلاش“، محترمہ میسرہ اختر نے افسانہ ”چنار کے سائے میں“، محترمہ سرتاج پروین شبینہ نے افسانہ ”اردھانگنی “ اور جناب فیصل ہاشمی نے افسانہ ”نرگس“کے عنوانات پر اپنی تخلیقات پیش کیں۔
تخلیقات پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر متھن کمار نے کہا کہ تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تمام تخلیقات موجودہ منظرنامے اور عصرِ حاضر کے حالات سے متاثر تھیں۔ تخلیق کاروں نے اپنی تحریروں میں موجودہ دور کے مسائل، انسانی زندگی کے درد و کرب اور معاشرتی صورتِ حال کی مختلف جہتوں کو مو?ثر انداز میں پیش کیا۔ ان تخلیقات میں جہاں اپنے عہد کی ترجمانی نظر ا?ئی، وہیں قاری کو غور و فکر کی دعوت بھی دی گئی۔ ایک کامیاب تخلیق کار وہی ہوتا ہے جو اپنی تخلیق کے ذریعے قاری کو محض محظوظ نہ کرے بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کر دے۔
ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے تمام تخلیق کاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی تخلیقی کاوشوں کو سراہا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے عصرِ حاضر کے مسائل اور انسانی احساسات کی مو?ثر ترجمانی پر تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تخلیقی سفر ا?ئندہ بھی اسی طرح جاری رہے گا۔
پروفیسر شاہینہ تبسم نے ”نئے پرانے چراغ“ پروگرام کے پس منظر اور اس کے بنیادی مقاصد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 26 برس قبل جب یہ پروگرام ان کے سامنے شروع ہوا تھا وہ ا?ج بھی پوری ا?ب و تاب اور طمطراق کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اردو اکادمی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔انہوں نے پروگرام کی ابتدا کے بنیادی مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”نئے چراغ“ سے مراد نئی نسل کے اسکالرز اور تخلیق کار ہیں، جنہیں تحقیق، تخلیق اور شعری اظہار کے میدان میں ا?گے بڑھنے کے لیے ایک مو?ثر ادبی اسٹیج فراہم کرنا اور اس کے لیے تیار کرنا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔
قابلِ ذکر کہ افتتاحی اجلاس کے مہمانِ اعزازی جناب انیس عباسی، صدر، بی جے پی دہلی اسٹیٹ اقلیتی مورچہ، اپنی مصروفیات کے باعث افتتاحی اجلاس میں شرکت نہ کرسکے تھے، تاہم انہوں نے افتتاحی اجلاس کے بعد منعقدہ مشاعرے میں شرکت کی۔ اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے حکومتِ ہند اور حکومتِ دہلی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اور ”نئے پرانے چراغ“ کی معنویت پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پرانے چراغ ہماری تہذیبی وراثت اور روایات کی علامت ہیں، جب کہ نئے چراغ ا?نے والی نسل کی نئی سمتوں اور امکانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم کا نعرہ ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس“ ا?ج عملی طور پر درست ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے ، جس کی ایک زندہ مثال دہلی اردو اکادمی کی جانب سے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل منعقد کیے جانے والے پروگرام ہیں۔
تخلیقی اجلاس کے بعد شام چھ مشاعرہ شروع ہوا جس کی صدارت جناب وقارمانوی نے کی جب کہ نظامت کے فرائض پروفیسر رحمن مصور نے انجام دیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ