
نئی دہلی، 29 اگست (ہ س)۔
دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں سوائن فلو اور ڈینگی کے بڑھتے معاملات کو روکنے میں ریاستی حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ روزانہ 100 سے زیادہ سوائن فلو اور مسلسل بڑھتے ڈینگی کے معاملات حکومت کے صحت سے متعلق منصوبوں اور تیزی سے پھیل رہے سوائن فلو اور ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات کی قلعی کھول رہے ہیں۔
دیویندر یادو نے ہفتہ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 27 اگست کو سوائن فلو کے 125 اور 28 اگست کو 166 معاملات سامنے آنے کے بعد دہلی میں ایچ ون این ون (ایچ ون این ون) سے متاثرہ افراد کی تعداد 2612 سے تجاوز کر چکی ہے، جو تشویش ناک ہے۔ ڈینگی کے 272 معاملات درج ہوئے ہیں، جبکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں ملیریا کے 95 اور چکن گنیا کے 21 معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مانسون کے دوران زیادہ نمی کے باعث سوائن فلو اور مچھروں سے پھیلنے والے ڈینگی کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی روک تھام کے لیے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کرنے کے احکامات دینے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بیماریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جمع شدہ پانی میں ٹیمفوس اور بی ٹی آئی لاروا کش دوا کا چھڑکاو¿ نہ کرنا اور فوگنگ مشینوں کے ذریعے کیڑے مار دھوئیں کے چھڑکاو¿ پر توجہ نہ دینا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ماہرین کے مطابق بچوں اور بزرگوں سمیت حاملہ خواتین میں ایچ ون این ون کے معاملات زیادہ بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسپتالوں میں سوائن فلو کی جانچ کی لاگت تقریباً 1500 سے 5000 روپے تک ہے، جبکہ سنگین حالت والے مریض کی مکمل ریسپریٹری بایو فائر پینل جانچ پر 9000 سے 15000 روپے تک خرچ آ سکتا ہے، جو غریب، نچلے اور متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی حکومت سرکاری اسپتالوں میں سوائن فلو کے مریضوں کی یہ جانچ مفت کرانے کا انتظام کرے اور اس کے لیے ضروری آلات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ جگ پرویش اسپتال میں فلو وارڈ پر لٹکا تالا حکومت کے انتظامات کی قلعی پہلے ہی کھول چکا ہے، کیونکہ اسپتالوں کو الرٹ موڈ پر رہنے کی ہدایت کے باوجود یہ صورت حال سامنے آئی ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ڈینگی، چکن گنیا اور ملیریا جمع شدہ پانی میں پیدا ہونے والے مچھروں کے باعث پھیلتے ہیں۔ دارالحکومت میں ان بیماریوں کے معاملات میں اضافہ حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ