چترکوٹ میں منداکنی ندی کا قہر، رام گھاٹ زیر آب، پل بہہ گیا اور کئی علاقے متاثر
چترکوٹ، 29 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش کے چترکوٹ میں منداکنی ندی نے ہفتہ کو خطرناک صورت اختیار کر لی۔ ندی کی سطح آب تیزی سے بڑھنے کے باعث سیلاب کا پانی رام گھاٹ سمیت آس پاس کے نشیبی علاقوں میں پھیل گیا۔ مدھیہ پردیش کی سرحد سے متصل نیا گاو¿ں میں منداک
چترکوٹ میں منداکنی ندی کا قہر، رام گھاٹ زیر آب، پل بہہ گیا اور کئی علاقے متاثر


چترکوٹ، 29 اگست (ہ س)۔

اتر پردیش کے چترکوٹ میں منداکنی ندی نے ہفتہ کو خطرناک صورت اختیار کر لی۔ ندی کی سطح آب تیزی سے بڑھنے کے باعث سیلاب کا پانی رام گھاٹ سمیت آس پاس کے نشیبی علاقوں میں پھیل گیا۔ مدھیہ پردیش کی سرحد سے متصل نیا گاو¿ں میں منداکنی ندی پر بنا پل تیز بہاو¿ میں بہہ گیا۔ پل ٹوٹنے سے اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ شام پانچ بجے تک منداکنی ندی خطرے کے نشان سے تقریباً آٹھ میٹر اوپر بہہ رہی تھی۔

منداکنی کی سطح آب بڑھنے کے ساتھ ہی رام گھاٹ اور آس پاس کے علاقوں میں پانی تیزی سے بھرنے لگا۔ رام گھاٹ مارکیٹ کی تمام دکانیں سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر ضلع مجسٹریٹ پلکیت گرگ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ارون کمار سنگھ پولیس فورس کے ساتھ موقع پر موجود ہیں اور راحت و بچاو¿ کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ آر کے سنگھ پٹیل نے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی۔

انتظامیہ نے جھانسی-مرزا پور قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی ہے۔ ضلع ہیڈکوارٹر پہنچنے سے پہلے بنے پل پر بھی منداکنی کا پانی بہہ رہا ہے۔ کئی اہم راستوں پر پانی بھر جانے سے ٹریفک متاثر ہوا ہے اور چترکوٹ آنے جانے والے لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

رام گھاٹ کا بڑا حصہ زیر آب آ گیا ہے۔ سیلاب کے باعث گھاٹوں پر ہونے والی مذہبی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی چترکوٹ کی سیاحت بھی متاثر ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے ندی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande