
۔بھگونت مان نے کہا کہ اب تک 70.92 لاکھ خواتین اس کے مستفید ہو چکی ہیں
چنڈی گڑھ، 28 اگست (ہ س)۔ بابا بکالا صاحب میں جمعہ کو رکھڑ پونیہ کے موقع پر، وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے ’ماواں-دھیاں ستکار یوجنا‘ کے تحت 5.30 لاکھ مزید خواتین کے کھاتوں میں تین ماہ کی 'سمان راشی' کے طور پر 181.50 کروڑ روپے منتقل کرکے خواتین کے تئیں اپنی حکومت کی وابستگی کا اظہار کیا۔ اس سے مستفید ہونے والوں کی کل تعداد 70.92 لاکھ ہو گئی ہے۔ حکومت ایک کروڑ خواتین کو اس اسکیم کے دائرے میں لانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے، جس میں رجسٹریشن میں مدد کرنے والی 1.38 لاکھ ’ستکار سکھیوں‘ کو 51 کروڑ روپے پہلے ہی اعزازیہ کے طور پر دیے جا چکے ہیں اور آنگن واڑی کارکنوں کو بھی 25 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔
تقریب کے دوران اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ ریاست کے سمجھدار لوگوں نے ان لیڈروں کو باہر کا راستہ دکھا دیا جو اپنے دور اقتدار کے دنوں میں محلات میں رہتے تھے اور انہوں نے کبھی عام لوگوں کی پرواہ نہیں کی۔ 25 سال حکومت کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو عوام نے سیاسیگمنامی میں بھیج دیا ہے اور اب انہیں کمیٹی بنانے کے لیے 25 ارکان بھی نہیں مل رہے۔ ریاست کے باشعور اور بہادر عوام نے ایسے متکبر لیڈروں کو ان کی بداعمالیوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔
اکالی دل کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، ”اپنے طویل دور حکومت کے دوران، اکالیوں نے سری گرو گرنتھ صاحب جی کی بے حرمتی کرنے ، اس گھناو¿نے جرم کے مجرموں کو بچانے اور بے گناہ لوگوں پر گولی چلوانے کا کام کیا۔ اکالیوں نے پنجابیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور کئی مافیاوں کو تحفظ دینے کے علاوہ ریاست کو بے رحمی سے لوٹا۔ اکالیوں پڑی ہر ووٹ بے ادبی کے حق میں فتوی ہوگی۔ اکالی قیادت کو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ ریاست کی کئی نسلوں کی بربادی کے ذمہ دار ہیں اور ان کے دور حکومت میں منشیات کے کاروبار کو سرپرستی حاصل تھی۔“
انہوں نے کہا، ”اپنی اقتدار کی بھوک کو مٹانے کے لیے، اکالی دل اب بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ہاتھ 700 سے زیادہ کسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ،جو کالے زرعی قوانین کے خلاف مظاہروں کے دوران شہید ہوئے تھے۔ اکالی-بی جے پی اتحاد کسی نظریے یا عوامی فلاح سے عاری ہے اور اس کا واحد مقصد ریاست میں اقتدار حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست کو پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ، بھاکڑا ڈیم، ندی کے پانی اور اس کے تمام جائز حقوق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان لوگوں نے پنجاب کی ترقی کو پٹری سے اتارنے کے لیے ریاست کی گرانٹس کا بڑا حصہ روک رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائے گی کیونکہ عوام انہیں سبق سکھانے کے لئے تیار ہیں۔ کانگریس پارٹی کے اندر جاری رستہ کشی پر تنقید کرتے ہوئے، انہوں نے کہا،” جہاں اس کے لیڈر اپنے تنگ سیاسی مفادات کی تکمیل اور اقتدار کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں، وہیں ریاستی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انتھک کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی آپس میں نہیں لڑتی بلکہ رنگلاپنجاب بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔ ریاست کی لڑائی معیاری تعلیم، اچھی صحت اور دیگر فلاحی اسکیموں کے لیے ہے، جب کہ کانگریس کے رہنما، اقتدار کی بھوک سے متاثر ہوکر، آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آنکھ بھی نہیں ملا رہے ہیں۔
اس فلاحی اسکیم کی عالمی سطح پر شاید ہی کوئی مثال ہو، جو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اب تک 70.92 لاکھ خواتین مستفیدین کو پنجاب حکومت کی طرف سے یہ تحفہ مل چکا ہے، اور آج حال ہی میں رجسٹر ہونے والے 5.30 لاکھ مستفیدین کو 181.50 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔ انہوں نے کہا،”پنجاب کے 90 فیصد سے زیادہ کنبوں کو مفت بجلی مل رہی ہے۔ یہاں تک کہ کسانوں کو اب دن کے وقت بھی بجلی مل رہی ہے، جو کہ اپنے آپ میں ہماری حکومت کا ایک بڑا قدم ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کا ہے اور ہم اسے ان کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد