نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن بنا کر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، سابق امریکی سفیرفرانسس ریکارڈون کا دعویٰ
واشنگٹن، 28 اگست(ہ س)۔ ترکیہ میں سابق امریکی سفیر فرانسس جے ریکارڈون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے ترکیہ کو اسرائیل کے لیے ایک نئے بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنے میں سیاسی فائدہ نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی خاص
نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن بنا کر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، سابق امریکی سفیرفرانسس ریکارڈون کا دعویٰ


واشنگٹن، 28 اگست(ہ س)۔

ترکیہ میں سابق امریکی سفیر فرانسس جے ریکارڈون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے ترکیہ کو اسرائیل کے لیے ایک نئے بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنے میں سیاسی فائدہ نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی خاص طور پر 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ایک عرب میڈیا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ریکارڈون نے کہا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے تحت لگائے گئے ایک بڑے اشتہار میں ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایران، حزب اللہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اشتہار میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ مذکورہ رہنما نیتن یاہو کو شکست دلانا چاہتے ہیں۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی شام کے ابو الظہور فوجی اڈے پر حملہ کیا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کا مقصد شام میں ترکی کی ممکنہ فوجی موجودگی اور فوجی تعمیرات کو روکنا تھا۔اسرائیلی حکومت کے مطابق اسے خدشہ تھا کہ ترکی وہاں اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھا سکتا ہے۔ تاہم شام اور ترکی نے مستقل ترک فوجی اڈہ قائم کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے مطابق ترک فوجی حکام نے اڈے کا دورہ تربیتی اور فوجی تعاون کے سلسلے میں کیا تھا، لیکن وہاں مستقل ترک فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

ابو الظہور اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد اس کے وقت اور مقصد کو لے کر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی برائے شام اور ترکیہ میں سفیر ٹام بیراک نے اشارہ دیا کہ یہ کارروائی ترکی کو اشتعال دلانے اور اسرائیلی انتخابات سے قبل داخلی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائی اسرائیل اور ترکی کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ترکی نے اسرائیلی حملے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے نیتن یاہو پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ شام میں امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔نیتن یاہو نے شام میں ترکی کے ممکنہ فوجی کردار کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ترک صدر رجب طیب اردوان کو شام میں ’’خطرناک مہم جوئی‘‘ سے باز رہنے کا انتباہ دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے سیاسی بیانیے میں ترکی کی اہمیت اس وقت نمایاں ہوئی ہے جب ان کی انتخابی مہم میں اردوان کو اسرائیل کے مخالف رہنماؤں کے ساتھ ایک ہی اشتہار میں پیش کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی اب اسرائیلی انتخابی سیاست میں بھی ایک اہم موضوع بنتا جارہا ہے۔اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں اب چند ماہ ہی باقی ہیں، جبکہ نیتن یاہو طویل عرصے سے خود کو اسرائیل کی سلامتی کے مضبوط محافظ کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ترکی کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ آیا تل ابیب کا مؤقف خالصتاً سکیورٹی خدشات پر مبنی ہے یا اس میں انتخابی سیاست کا عنصر بھی شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande