
رسوا گڑھی کے قریب قدرتی جھیل سے ایک اور سیلاب کا خطرہ، 644 غیر ملکی شہری بھی لاپتہ، حکومت نے 13,295 سکیورٹی اہلکار اور 15 ہیلی کاپٹر تعینات کیےکاٹھمنڈو، 28 اگست (ہ س)۔ نیپال میں تباہ کن بھوٹے کوشی سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور حکومت کو اس آفت کے نتیجے میں کئی ارب ڈالر کے مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب جمعہ کی صبح تک آٹھ اضلاع سے 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ 2381 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں 644 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔اس دوران حکام نے ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں رسوا گڑھی کے اوپر لھینڈے ندی کا بہاؤ رکنے اور وہاں ایک جھیل بننے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ اگر یہ قدرتی بند ٹوٹ جاتا ہے تو نچلے علاقوں میں دوبارہ شدید سیلاب آسکتا ہے۔نیپال کے وزیر خزانہ سورنیم واگلے نے بلومبرگ ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آنے میں ابھی ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں، تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق مجموعی نقصان کم از کم کئی ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے ابتدائی نقصان کے تخمینے کو ’’کافی تشویشناک‘‘ قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں، بجلی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس کی بحالی کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔نیپال پولیس کے مطابق اب تک آٹھ اضلاع سے لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ سب سے زیادہ 178 لاشیں چت ون اور 110 لاشیں مشرقی نول پراسی سے برآمد ہوئی ہیں۔ چت ون میں لاشوں کی شناخت کا عمل شروع کردیا گیا ہے، جبکہ رسوا ضلع میں سرچ آپریشن تیز کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق 2381 لاپتہ افراد میں 644 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ ان میں 178 ہندوستانی، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 51 ملائیشیائی، 35 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 25 کینیڈین شہری شامل ہیں۔اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم 127 نیپالی شہری بھی لاپتہ ہیں، جو سیاحت کے لیے نیپال آئے ہوئے تھے۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ سیلاب کا فوری اثر کم ہورہا ہے، لیکن خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ جمعرات کو لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں رسوا گڑھی کے اوپر لھینڈے ندی کا بہاؤ رکنے اور وہاں پانی جمع ہوکر جھیل بننے کے شواہد ملے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ قدرتی بند ٹوٹ گیا تو لھینڈے، بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے کنارے آباد نچلے علاقوں میں ایک بار پھر شدید سیلاب آسکتا ہے۔حکومت نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھنے اور انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی وارننگ پر فوری عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے سرچ، ریسکیو، راحت اور بحالی کے کاموں کے لیے 13,295 سکیورٹی اہلکار اور 15 ہیلی کاپٹر تعینات کیے ہیں۔ان میں 7,250 نیپال پولیس، 4,200 نیپالی فوج اور 1,845 آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار شامل ہیں۔ این ڈی آر آر ایم اے کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 1,976 افراد کو بچایا جاچکا ہے۔نیپال حکومت نے فوری راحت کے لیے رسوا اور نواکوٹ کو ایک ایک کروڑ روپے جبکہ دھادنگ کو 50 لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔متاثرہ افراد میں خوراک، پانی، خیمے، کمبل، سولر لیمپ، جنریٹر اور پاور بینک سمیت ضروری اشیا تقسیم کی جارہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ایندھن کی فراہمی بھی جاری ہے اور تقریباً 18 ہزار لیٹر ڈیزل اور پٹرول بھیجا گیا ہے۔کاٹھمنڈو وادی کے مختلف اسپتالوں میں اس وقت 60 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑک اور بجلی کا نظام بحال کرنے کے ساتھ ساتھ راحت اور بچاؤ کا کام بھی جاری ہے۔ دھونچے-گرونگ، بیدور-تریشولی-دھونگے اور بیرینی-مگلین راستوں پر بھاری مشینری تعینات کی گئی ہے، جبکہ دیوی گھاٹ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔
این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق یہ تباہی 10 ستمبر کو نیپال-چین سرحد کے قریب برف اور چٹانوں کا ایک بڑا حصہ کھسکنے کے بعد شروع ہوئی۔ اس واقعے سے تقریباً ایک مربع کلومیٹر علاقہ متاثر ہوا اور 5.2 شدت کے زلزلے جیسے جھٹکے محسوس کیے گئے۔اس کے بعد بڑی مقدار میں پانی بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے نظام میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں ندیوں کی سطح بلند ہوئی اور کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب آگیا۔
فی الحال نیپال کو ایک طرف متاثرین تک فوری راحت پہنچانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا چیلنج درپیش ہے، جبکہ دوسری جانب تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بڑے مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan