
واشنگٹن، 28 اگست(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور بحری ناکہ بندی کے حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اہم دعوے کیے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایرانی بحری ناکہ بندی کے نفاذ اور سمندری آمدورفت کو یقینی بنانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق گزشتہ ماہ کے وسط میں بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد سے ایران کی جانب سے کوئی تیل برآمد نہیں کیا گیا۔ امریکی تعاون سے خلیج کے علاقے سے تقریباً 750 ملین بیرل تیل منتقل کیا جاچکا ہے۔
امریکی سینٹ کام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔سینٹ کام کے مطابق امریکی اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایرانی بندرگاہوں سے جہازوں کی آمدورفت اور وہاں تک بحری رسائی کی اجازت دی جارہی ہے۔امریکی سینٹ کام کا مزید کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی صورت میں 75 جہازوں سے نمٹنے کے لیے تیاری کی گئی تھی۔ امریکی کمانڈ کے مطابق ان میں سے تین جہازوں نے دیے گئے احکامات پر عمل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔
امریکی فوجی کمانڈ کے ان دعوؤں کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات پر بھی عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورت حال میں مزید بگاڑ خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan