مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کے پی ایس سی بھرتی گھوٹالے میں ریاستی حکومت کی سازز باز کا الزام عائد کیا
ہبلی، 28 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کرناٹک پبلک سروس کمیشن (کے پی ایس سی) بھرتی گھوٹالے کے معاملے میں ریاستی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھرتی گھوٹالے میں ریاستی حکومت کی براہِ راست ساز باز ہے۔ معاملے سے
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کے پی ایس سی بھرتی گھوٹالے میں ریاستی حکومت کی سازز باز کا الزام عائد کیا


ہبلی، 28 اگست (ہ س)۔

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کرناٹک پبلک سروس کمیشن (کے پی ایس سی) بھرتی گھوٹالے کے معاملے میں ریاستی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھرتی گھوٹالے میں ریاستی حکومت کی براہِ راست ساز باز ہے۔ معاملے سے وابستہ ایک لاپتہ افسر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ افسر کو تلاش کرنے کے بجائے حکومت انتقامی سیاست میں مصروف ہے۔

جمعہ کو ہبلی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جوشی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک افسر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ریاست کے خفیہ محکمہ کو نہیں تھی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحقیقات سے بچانے کے لیے ریاستی حکومت نے ہی افسر کو چھپا رکھا ہے۔

جوشی نے کہا کہ کے پی ایس سی بھرتی گھوٹالے سے متعلق کئی اہم دستاویزات پہلے ہی غائب ہیں۔ اب معاملے سے وابستہ افسر کے لاپتہ ہونے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسر کو تلاش کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

مرکزی وزیر نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افسر کو تلاش کرنا زیادہ اہم ہے یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پاتھ سنچلن میں شامل لوگوں کو معطل کرنا؟ انہوں نے کہا کہ سنگھ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

جوشی نے دعویٰ کیا کہ 1970 سے سنگھ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے لوگوں کے خلاف درج کئی مقدمات عدالتوں میں خارج ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی جذبے کے تحت کی جانے والی کارروائی بھی عدالتی عمل میں برقرار نہیں رہ سکے گی اور اس سے ریاستی حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔

وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی جانب سے اصول اور نظریے کی بات کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے جوشی نے کہا کہ اگر حکومت اپنی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے لاپتہ افسر کو تلاش کرکے عوام کے سامنے لانا چاہیے۔

مرکز حکومت 1.20 لاکھ ٹن پیاز بازار میں لائے گی

ملک کے مختلف حصوں میں پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سوال پر مرکزی وزیر نے کہا کہ کئی علاقوں میں زیادہ بارش کے باعث پیاز کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ وہیں کچھ علاقوں میں کم بارش کی وجہ سے بھی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صارفین کو راحت فراہم کرنے کے لیے مرکزی حکومت 1.20 لاکھ ٹن پیاز بازار میں لا رہی ہے۔ جن علاقوں میں پیاز کی قیمتیں زیادہ ہیں، وہاں ترجیحی بنیاد پر اس کی سپلائی کی جائے گی۔

جوشی نے کہا کہ ملک کے تمام حصوں میں پیاز کی قیمتیں یکساں نہیں ہیں۔ زیادہ قیمت والے علاقوں میں سپلائی بڑھا کر بازار میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت کا مقصد صارفین کو راحت فراہم کرنا اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنا ہے۔

نیپال میں پھنسے ہندوستانیوں کی سلامتی کے لیے مرکز پرعزم

نیپال میں قدرتی آفت سے پیدا ہونے والی صورت حال پر پرہلاد جوشی نے کہا کہ وہاں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور بچاو¿ کے لیے مرکزی حکومت نے ضروری اقدامات کیے ہیں۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ ہندوستانیوں کو محفوظ طریقے سے نکال کر ملک واپس لانے کے لیے متعلقہ حکام اور ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کیا جا رہا ہے۔ بحران کی صورت حال میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی مدد اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت پوری طرح پرعزم ہے۔

جوشی نے کہا کہ متعلقہ ایجنسیاں نیپال کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت کے مطابق راحت اور بچاو¿ کے کاموں میں ضروری تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande