

کانپور، 28 اگست (ہ س)۔ مہاراج پور تھانہ علاقہ کے پوروامیر گاؤں میں جمعہ کو گھر کے صحن میں اچانک زمین دھنس جانے سے ایک لڑکی 20 فٹ گہرے گڑھے میں گر گئی۔ حادثے کے بعد سے اسے بچانے کے لیے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فائر ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ گڑھے کے متوازی کھود کر لڑکی تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بارش کی وجہ سے ایک پرانی بند پڑی بورنگ دھنس جانے سے یہ گڑھا بن گیا ہے۔
گڑھے میں گرنے والی لڑکی کی شناخت گاؤں کی رہنے والی 18 سالہ یشی سویتا کے طور پر کی گئی ہے۔ گھر والوں کے مطابق تہوار کی وجہ سے گھر کے سبھی لوگ جلدی اٹھ کر راکھی منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اسی دوران صحن کی زمین اچانک دھنس گئی اور یشی گڑھے میں گر گئی ۔ اس کے گرنے سے خاندان میں کھلبلی مچ گئی۔ شور سن کر آس پاس کے گاؤں والے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر پی آر وی صبح 6:55 پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔ مقامی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں پہنچ گئیں۔ اس کے فوراً بعد این ڈی آر ایف کی ایک ٹیم بھی پہنچ گئی۔ بچی کو بچانے کے لیے راحت اور بچاو مہم شروع کی گئی ۔
چیف فائر آفیسر دیپک شرما نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ اب تک تقریباً 12 فٹ کھدائی ہو چکی ہے۔ جے سی بی سے کھدائی مشکل ثابت ہو رہی ہے، اس لیے ایک پوکلین مشین کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ریسکیو آپریشن تقریباً چار گھنٹے سے جاری ہے۔
گڑھے کی گہرائی کے باعث ریسکیو ٹیمیں نیچے تک پہنچنے کے لیے اس کے ساتھ ہی ایک اور گڑھا کھود رہی ہیں۔ این ڈی آر ایف کے ڈپٹی کمانڈنٹ نوین شرما کے مطابق، تقریباً 10 سے 12 فٹ کھدائی مکمل ہو چکی ہے، اورتقریباً چھ سے سات فٹ کھدائی باقی ہے۔ اس کے بعد ہی لڑکی کی حالت اور اس کی بحفاظت صحت یابی کے امکانات واضح ہوں گے۔
اہل خانہ نے بتایا کہ تقریباً تین سال قبل گھر کے اندر ایک گڑھا کھودا گیا تھا۔ وہاں کام نہیں ہونے پر دوسری بورنگ کروائی گئی ۔ شبہ ہے کہ پرانے بورہول نے زمین کو اندر سے کمزور کر دیا تھا۔ بارش کے بعد زمین کی حالت مزید بگڑ گئی جس سے صحن کا ایک حصہ اچانک اندر دھنس گیا۔
یشی چار بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کے والد ونود خاندان کی کفالت کے لیے مزدوری کرتے ہیں۔ اس کی ماں ریکھا دیوی اور خاندان کے دیگر افراد کااس واقعے کے بعد سے رو رو کر برا حال ہے۔گاؤں والوں کی بڑی بھیڑ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی ہے۔ اسمبلی اسپیکر کے نمائندے سریندر اوستھی اور دیگر مقامی باشندے بھی موقع پر موجود ہیں۔ پولیس اور انتظامی ٹیمیں صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد