
جموں, 28 اگست (ہ س)۔
گورنمنٹ ڈگری کالج ٹھاٹھری کے مستقل کیمپس کے مطالبے کو لے کر 20 اگست سے جاری نو روزہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جمعہ کے روز انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے اہم مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ختم ہوگئی۔مظاہرین کے مطالبات میں موجودہ عمارت سے کالج کو محفوظ اور موزوں مقام پر منتقل کرنا اور مستقل کیمپس کی تعمیر کے لیے اراضی کو حتمی شکل دینا شامل تھا۔ انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔
یہ بھوک ہڑتال سماجی کارکن منوج کمار نے شروع کی تھی، جبکہ پہلے روز راج کمار بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ بعد میں امیر زگر، ثاقب حسین، ارشاد احمد اور ناصر عالم نے بھی بھوک ہڑتال میں شرکت کی۔ احتجاج کو طلبہ، تاجروں، سول سوسائٹی، مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔واضح رہے کہ جی ڈی سی ٹھاٹھری کو 2010 میں منظوری ملی تھی اور 2011 میں کلاسز شروع ہوئی تھیں، تاہم تقریباً 16 برس گزرنے کے باوجود کالج کا مستقل کیمپس تعمیر نہیں ہوسکا۔ کالج اس وقت ایک ایسی عمارت میں چل رہا ہے جو پہلے بلاک ڈیولپمنٹ آفس کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔احتجاج کے ساتویں روز جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حامد قرہ نے احتجاجی مقام کا دورہ کرکے بھوک ہڑتال کرنے والوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کالج کے مستقل کیمپس کی تعمیر میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائیں گے اور ضرورت پڑنے پر قانون ساز اسمبلی میں بھی آواز بلند کریں گے۔ادھر ڈوڈہ کے رکن اسمبلی معراج ملک نے احتجاج کے آٹھویں اور نویں روز مظاہرین کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو، ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کرشن لال اور دیگر افسران کے ساتھ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 16 برس سے جاری تاخیر کے باعث طلبہ کی کئی جماعتیں متاثر ہوئی ہیں اور اب اس مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر حل کرنے کی ضرورت ہے۔معراج ملک نے موجودہ عمارت کی حالت کو ناموزوں قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مستقل کیمپس کی تعمیر تک کالج کو کسی محفوظ اور مناسب سرکاری عمارت میں عارضی طور پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔جمعہ کو نمازِ جمعہ کے بعد انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے، جس کے بعد کالج کی عارضی منتقلی اور مستقل کیمپس کے لیے اراضی کو حتمی شکل دینے کے مطالبات پر پیش رفت کا یقین دلایا گیا۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر ڈوڈہ احتجاجی مقام پر پہنچے اور بھوک ہڑتال کرنے والوں کو مٹھائی کھلا کر احتجاج ختم کروایا۔سماجی کارکن راجہ شکیل نے احتجاج کے اختتام کو طلبہ اور ٹھاٹھری کے عوام کی کامیابی قرار دیا۔ بھوک ہڑتال کمیٹی کے میڈیا کوآرڈینیٹر انزر ایوب نے کہا کہ تحریک کا مقصد سیاسی مفاد نہیں بلکہ طلبہ کے تعلیمی حقوق اور مستقل کیمپس کا حصول تھا۔سابق میونسپل کمیٹی کونسل صدر منصور احمد بٹ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران کیے گئے وعدوں کو محض یقین دہانی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات کیے جائیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نو روزہ احتجاج ختم ہونے کے باوجود اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کالج کی عارضی منتقلی اور مستقل کیمپس کی تعمیر کے حوالے سے انتظامیہ کے وعدوں پر عملی طور پر عملدرآمد شروع ہوگا۔
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر