
علی گڑھ , 28 اگست (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بی اے سیکنڈ ایئر کے طالب علم کرشنا نے جمعرات کی دیر رات سول لائنز علاقے میں واقع اپنے پی جی کے کمرے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔ واقعہ کی اطلاع اس وقت ہوئی جب اس کا ساتھی تقریباً ڈیڑھ بجے کمرے پر واپس پہنچا۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ کافی دیر تک دروازہ کھٹکھٹانے اور آواز دینے کے باوجود جب دروازہ نہیں کھلا تو جالی سے جھانک کر دیکھا گیا، جہاں کرشنا کی لاش پنکھے کے سہارے پھندے سے لٹکی ہوئی نظر آئی۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوئی۔ پولیس نے لاش کو نیچے اتار کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ کمرے کی تلاشی کے دوران تقریباً پانچ سطروں پر مشتمل ایک مبینہ خودکشی نوٹ بھی ملا ہے۔ پولیس نے موبائل فون اور نوٹ کو قبضے میں لے کر جانچ شروع کردی ہے۔
بتایا گیا کہ کرشنا اپنے ساتھی اسنان کے ساتھ دودھ پور کے مجمل منزل علاقے میں ریٹائرڈ پرنسپل ڈاکٹر ایچ اے خان کی پرانی کوٹھی میں بنے پی جی میں رہتا تھا۔ اسنان ان دنوں بہار گیا ہوا ہے اور اپنے ایک رشتہ دار کو کرشنا کے پاس کمرے پر چھوڑ گیا تھا۔
ساتھی کے مطابق رات تقریباً 12 بجے کرشنا نے کپڑے تبدیل کرنے کی بات کہہ کر اسے کمرے سے باہر بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد وہ فون پر بات کرتے ہوئے کالونی سے باہر چلا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے جب وہ واپس آیا تو کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ کافی دیر تک دروازہ نہ کھلنے پر اس نے آس پاس کے لوگوں کو اطلاع دی۔ بعد میں جالی سے جھانکنے پر کرشنا کی لاش نظر آئی۔
کرشنا کے ساتھ پڑھنے والے طلبہ اور جموں سے تعلق رکھنے والے دیگر طلبہ نے بتایا کہ وہ پڑھائی میں کافی ذہین اور خوش مزاج تھا۔ اس کی معمول کی زندگی یونیورسٹی جانے اور کمرے میں پڑھائی کرنے تک محدود تھی۔ دوستوں کے ساتھ بھی وہ عام طور پر خوش مزاج رہتا تھا۔
ایک دوست نے بتایا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی اس کی کرشنا سے ملاقات ہوئی تھی اور اس وقت ایسا محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے۔
اے ایم یو میں گزشتہ دو برس کے دوران طالب علم کی خودکشی کا یہ پانچواں معاملہ بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایک طالب علم اور تین طالبات کی خودکشی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ مسلسل سامنے آنے والے ان واقعات نے یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان ایک بار پھر تشویش پیدا کردی ہے۔پولیس کے مطابق کمرے سے ملنے والے مبینہ خودکشی نوٹ میں کرشنا نے اپنی ماں، والد اور خاندان کے دیگر افراد کا ذکر کیا ہے۔ نوٹ میں خود کو ناکام قرار دیتے ہوئے خودکشی کرنے کی بات لکھی گئی ہے۔ نوٹ میں ’بابو‘ لفظ کا بھی ذکر ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ لفظ کسی لڑکی کے لیے استعمال کیا گیا یا اس کی چھوٹی بہن کے لیے۔
پولیس کے مطابق کرشنا فون پر کافی گفتگو کرتا تھا۔ موبائل فون لاک ہونے کے باعث اسے کھلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے بعد کالز اور دیگر معلومات کی جانچ کی جائے گی۔ فی الحال فارنسک جانچ کے بعد کمرے کو سیل کردیا گیا ہے۔
کرشنا کے والد وکرانت شرما جموں کے پیر میٹھا علاقے میں پوجا پاٹ کا کام کرتے ہیں۔ خاندان میں والدین، دادا اور ایک چھوٹی بہن ہے۔ کرشنا انٹرمیڈیٹ کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے اے ایم یو آیا تھا۔ ہاسٹل نہ ملنے کی وجہ سے وہ پی جی میں رہ رہا تھا۔
دہلی سے پوسٹ مارٹم مرکز پہنچنے والے اس کے رشتہ کے چچا نے بتایا کہ تقریباً دو ماہ قبل کرشنا ایک تقریب میں شرکت کے لیے گھر گیا تھا۔ اس وقت اس نے رکشا بندھن کے موقع پر دوبارہ گھر آنے کی بات کہی تھی، لیکن وہ گھر نہیں پہنچ سکا اور اس کے بجائے اہل خانہ کو اس کی موت کی خبر ملی۔
سی او تھرڈ سروم سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر طالب علم کی جانب سے خودکشی کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس کا موبائل فون لاک ہے، جسے کھلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خودکشی کی وجہ کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اہل خانہ سے بات چیت اور پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ