
رائے پور، 28 اگست (ہ س)۔ چھتیس گڑھ میں کئی جگہوں پر سوائن فلو کے مریض پائے جانے کے بعد محکمہ صحت الرٹ ہو گیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق جمعرات کو درگ اور خیرا گڑھ میں سوائن فلو کے تین معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ خیرا گڑھ میں سوائن فلو کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے۔
محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق (یکم جنوری سے 27 اگست 2026 تک) اس سال ریاست میں سوائن فلو کے کل 105 معاملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 18 فعال مریض ہیں۔
رائے پور میں سوائن فلو کے 51 معاملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے چھ فعال ہیں۔ بلاس پور میں سوائن فلو کے 12 معاملے رپورٹ ہوئے، جن میں سے دو فعال ہیں۔ دھمتاری میں سوائن فلو کے 7 معاملے ہیں جن میں سے چار فعال ہیں جبکہ درگ میں سوائن فلو کے 7 معاملے ہیں جن میں سے دو فعال ہیں۔ رائے پور، بلاس پور، درگ کے علاوہ کوربا اور خیرا گڑھ میں بھی نئے معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد محکمہ صحت نے تمام اسپتالوں کو الرٹ موڈ پر رکھا ہے۔
جمعرات کو درگ اور خیرا گڑھ میں سوائن فلو کے تین معاملوںکی تصدیق ہوئی۔ خیرا گڑھ میں سوائن فلو کا پہلا معاملہ رپورٹ ہوا ہے۔ محکمہ صحت نے فوری طور پر چوکسی بڑھا دی ہے۔ چھئی کھدان بلاک سے محکمہ صحت کی ٹیم بچے کے گھر پہنچی اور خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ آس پاس کے لوگوں کی صحت کی جانچ شروع کی۔ محکمہ صحت اب بچے کے رابطے میں آنے والے لوگوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے میں بھی مصروف ہے۔
ڈاکٹر منیش بگھیل، بلاک میڈیکل آفیسر، چھئی کھدان نے بتایا ہے کہ محکمہ متاثرہ بچے کی حالت اور اس کے رابطے میں آنے والے لوگوں کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ درگ ضلع کے دو فعال مریضوں میں سے ایک کا علاج ایمس رائے پور میں کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے مریض کا علاج بھیلائی کے سیکٹر 9 کے اسپتال میں کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران سی ایم ایچ او ڈاکٹر ایس این کیسری کے مطابق کوربا میں سوائن فلو کے دو مریض ہیں جن کا علاج رائے پور میں چل رہا ہے۔
اس کے علاوہ، محکمہ صحت نے مشورے جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ موسمی انفلوئنزا اور ایچ 1 این 1 زیادہ تر وقت خود ہی ٹھیک ہونے والی بیماریاں ہیں۔ تاہم، اگر چھوٹے بچوں، بزرگوں اور پہلے سے موجود سنگین بیماری والے لوگوں میں فلو کی علامات پیدا ہو جائیں تو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، صورتحال قابو میں ہے اور تمام ضلعی اسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی