اے ایم یو طالب علم کی موت کے بعد ذہنی صحت اور طلبہ کی حفاظت پر بحث، آر ٹی آئی نے انتظامی نظام پر سوالات کھڑے کیے
اے ایم یو طالب علم کی موت کے بعد ذہنی صحت اور طلبہ کی حفاظت پر بحث، آر ٹی آئی نے انتظامی نظام پر سوالات کھڑے کیے علی گڑھ، 28 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی کے بعد طلبہ کی ذہنی صحت، حفاظت اور فوری مدد کے نظام کو لے کر بحث
اے ایم یو


اے ایم یو طالب علم کی موت کے بعد ذہنی صحت اور طلبہ کی حفاظت پر بحث، آر ٹی آئی نے انتظامی نظام پر سوالات کھڑے کیے

علی گڑھ، 28 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی کے بعد طلبہ کی ذہنی صحت، حفاظت اور فوری مدد کے نظام کو لے کر بحث تیز ہوگئی ہے۔ اسی دوران قانون کے طالب علم امجد علی کی جانب سے داخل کی گئی آر ٹی آئی کا جواب بھی سامنے آگیا ہے۔ امجد علی نے 29 اکتوبر 2025 کو اے ایم یو میں پیش آنے والے تین طلبہ کی خودکشی کے واقعات کے حوالے سے آر ٹی آئی داخل کرکے داخلی تحقیقات، کسی استاد یا افسر کی غفلت پر کارروائی، طلبہ کی حفاظت سے متعلق سفارشات اور متوفی طلبہ کے اہل خانہ سے خط و کتابت کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

یونیورسٹی کی جانب سے جواب میں سرکاری پریس ریلیز اور میڈیا سے متعلق معلومات کی دستیابی کے بارے میں بتایا گیا۔ تاہم آر ٹی آئی کے جواب کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تحقیقات یا کارروائی سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ معلومات دیگر شعبوں یا انتظامی سطح پر بھی محفوظ ہوسکتی ہیں۔

امجد علی کا کہنا ہے کہ صرف ذہنی صحت سے متعلق بیداری پروگرام کافی نہیں، بلکہ بحران سے دوچار طلبہ کی بروقت شناخت، کاؤنسلنگ، فالو اَپ اور ضرورت پڑنے پر فوری ماہرین کی مدد کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کسی طالب علم کی موت کے بعد صرف اظہارِ افسوس کے بجائے واقعہ کی سنجیدہ تحقیقات، خامیوں کی نشاندہی، اصلاحی اقدامات اور ان کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ اے ایم یو میں حالیہ واقعات کے بعد اب توجہ اس بات پر ہے کہ طلبہ کو مشکل حالات میں بروقت مدد اور محفوظ ماحول کس طرح فراہم کیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande