اردو اکادمی، دہلی کا مقبول ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ 28 اگست سے
نئی دہلی 27 اگست(ہ س )۔ اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے دہلی کے کہنہ مشق اور جواں عمر قلم کاروں کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جانے والا پانچ روزہ مقبول ترین ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ 28 اگست تا یکم ستمبر 2026 اکادمی
اردو اکادمی، دہلی کا مقبول ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ 28 اگست سے


نئی دہلی 27 اگست(ہ س )۔

اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے دہلی کے کہنہ مشق اور جواں عمر قلم کاروں کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جانے والا پانچ روزہ مقبول ترین ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ 28 اگست تا یکم ستمبر 2026 اکادمی کے قمر رئیس سلور جوبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوگا۔ اس پانچ روزہ ادبی اجتماع میں دہلی کے بزرگ و جواں عمر شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ پروگرام کا مقصد اردو زبان و ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر اہلِ قلم سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی ادبی روایت کو نئی توانائی اور تازہ امکانات کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکے۔

ادبی اجتماع کی افتتاحی تقریب 28 اگست 2026 بروز جمعہ شام 4 بجے منعقد ہوگی۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر عبدالحق، پروفیسر ایمرٹس، دہلی یونیورسٹی فرمائیں گے، جب کہ پروفیسر ایس۔ صادق علی، سابق صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔ جناب انیس عباسی، صدر، بی جے پی دہلی اسٹیٹ اقلیتی مورچہ مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کریں گے۔ افتتاحی پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف شاعر و ناظم ڈاکٹر شفیع ایوب انجام دیں گے۔

”نئے پرانے چراغ“ اردو اکادمی دہلی کے ان اہم اور مقبول پروگراموں میں شامل ہے جن کے ذریعے دہلی کی ادبی فضا میں بزرگ اور نئی نسل کے قلم کاروں کے درمیان ایک مضبوط ادبی ربط قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس اجتماع میں جہاں ایک طرف اردو کے بزرگ اور کہنہ مشق اہلِ قلم اپنی تخلیقی اور فکری صلاحیتوں سے نئی نسل کو روشناس کرائیں گے، وہیں دوسری جانب نوجوان قلم کاروں اور ریسرچ اسکالرز کو اپنی علمی و تخلیقی کاوشیں پیش کرنے کا بھرپور موقع حاصل ہوگا۔

پروگرام کے تحت 28 اگست تا یکم ستمبر 2026 روزانہ شام 5 بجے ”محفلِ شعر و سخن“ منعقد ہوگی، جس میں دہلی کے بزرگ اور جواں عمر شعرا اپنا کلام پیش کریں گے۔ یہ محفل دہلی کی شعری روایت کے مختلف رنگوں کو ایک ہی جگہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور سامعین کو معروف اور ابھرتے ہوئے شعرا کو سننے کا موقع ملے گا۔

اسی طرح 29 اگست تا یکم ستمبر 2026 روزانہ صبح ساڑھے نو بجے تا دوپہر دو بجے ”تحقیقی و تنقیدی اجلاس“ منعقد ہوگا۔ ان اجلاسوں میں دہلی کی تینوں یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالرز اپنی پی ایچ ڈی کے موضوعات کے حوالے سے تحقیقی و تنقیدی مقالے پیش کریں گے۔ ان علمی نشستوں کا مقصد اردو تحقیق کے نئے رجحانات، عصری ادبی مباحث اور مختلف علمی و تنقیدی موضوعات کو اہلِ علم اور طلبہ کے سامنے پیش کرنا ہے۔

اس کے علاوہ 29 اگست تا یکم ستمبر 2026 روزانہ دوپہر ڈھائی بجے تا شام 5 بجے ”تخلیقی اجلاس“ منعقد ہوگا، جس میں دہلی کے بزرگ اور جواں عمر تخلیق کار افسانہ، انشائیہ، خاکہ اور دیگر اصنافِ نثر میں اپنی تخلیقات پیش کریں گے۔ اس طرح پانچ روزہ اجتماع میں شعر و سخن کے ساتھ ساتھ اردو نثر، تحقیق، تنقید اور تخلیقی ادب کے مختلف پہلوو¿ں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

حکومتِ دہلی اردو زبان و ادب، ادبی ورثے اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مسلسل سرپرستی کرتی رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام یہ پانچ روزہ ادبی اجتماع اردو کی ادبی و تہذیبی روایت کے فروغ، نئی نسل کو اس کے ورثے سے روشناس کرانے اور نوجوان اہلِ قلم کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے کی ایک اہم کاوش ہے۔ وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ و چیئرمین اردو اکادمی، دہلی، جناب کپل مشرا کی سرپرستی میں اکادمی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اس پانچ روزہ ادبی اجتماع میں تقریباً ساڑھے پانچ سو ادبا و شعرا شرکت کر رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اہلِ قلم کی شرکت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اردو زبان و ادب سے وابستگی آج بھی نہایت مضبوط اور توانا ہے۔اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے منعقد کیا جانے والا یہ اجتماع نہ صرف اہلِ قلم کے لیے اظہار و تبادلہ خیال کا مو¿ثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا بلکہ دہلی کی اردو ادبی و ثقافتی روایت کے تسلسل کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande