نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب پر جماعت اسلامی ہند نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا
جماعت کے نائب امیر ایس امین الحسن نے فوری امداد اور قدرتی آفات سے بچاؤ پر زور دیا نئی دہلی،27اگست (ہ س )۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی و مالی نق
نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب پر جماعت اسلامی ہند نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا


جماعت کے نائب امیر ایس امین الحسن نے فوری امداد اور قدرتی آفات سے بچاؤ پر زور دیا

نئی دہلی،27اگست (ہ س )۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے کہا کہ اس انتہائی المناک سانحے کے وقت ہماری تمام تر ہمدردیاں نیپال کے عوام کے ساتھ ہیں۔ہم سیلاب میں اپنی جانیں گنوانے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ لوگوں کی سلامتی اور جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ اس وقت فوری ترجیح انسانی جانوں کو بچانا، لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پانی، رہائش، طبی امداد اور ہر ممکن انسانی تعاون فراہم کرنا ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے ہندوستان کو نیپالی حکام کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے ہر ممکن مدد فراہم کرنی چاہئے۔ خصوصی طور پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، طبی امداد، ہنگامی سامان، لاجسٹک سپورٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تکنیکی مہارت فراہم کرنا شامل ہے۔ ہندوستان کی سیٹلائٹ نگرانی خراب موسم اور سیلاب کی پیش گوئی کی صلاحیتیں قدرتی آفات ، سیلاب ، لینڈ سلائنڈنگ کے فوری خطرات سے نمٹنے میں نیپال کو مدد دے سکتی ہیں۔

ایس امین الحسن نے مزید کہا کہ یہ سانحہ ایک بار پھر ہمالیائی خطے، بشمول ہندوستان کے متعدد علاقوں میں شدید موسمی بحران ، گلیشیائی عدم استحکام، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ¿ حرارت، گلیشیئرز کے پگھلاو¿ اور موسم کے بدلتے ہوئے مزاج سے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آفات کے بعد ہمیں صرف ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس طرح کی تباہی کی روک تھام، پیشگی تیاری اور مضبوط حفاظتی منصوبہ بندی کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے۔ گلیشیئرز، جھیلوں، غیر محفوظ ڈھلوانوں اور بلند علاقوں میں موجود آبی ذخائر کی مو¿ثرنگرانی کی فوری ضرورت ہے۔ سیٹلائٹ امیجری، ریموٹ سینسنگ، زمینی نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام کو مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ نچلےعلاقوں میں رہنے والی آبادی کو خطرے کے وقت بچایا جا سکے۔ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں میں سڑکوں، پن بجلی کے منصوبوں، سیاحتی مقامات اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ماحولیاتی اور قدرتی خطرات کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور کارگر حکمت عملی اپنائے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ہم حکومتوں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں اور خطے کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نیپال کے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سانحے میں ضائع ہونے والی قیمتی انسانی جانیں حکومتوں اور پالیسی سازوں کو آفات کے خطرات کو کم کرنے اور ہمالیائی خطے کے خطرے سے دوچار آبادیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مستقل اقدامات کرنے پر مجبور کریں گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande