
چنئی، 27 اگست (ہ س)۔ تمل ناڈو اسمبلی میں گرانٹ کے مطالبات پر جاری بحث کے دوران جمعرات کو اپوزیشن لیڈر ادے ندھی اسٹالن نے توجہ دلاؤ تجویز پیش کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب میں تمل شہریوں کے پھنسے ہونے کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ سابق وزیر اعلیٰ ایڈپڈی پلانی سوامی نے بھی اس واقعے کے سلسلے میں حکومت سے جواب طلب کیا۔ نیپال کی آفت میں 37 تمل شہریوں کے پھنسے ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔
گرانٹ کے مطالبات پر بحث کے آٹھویں دن آج ایوان کی کارروائی سوال و جواب کے وقفے کے ساتھ شروع ہوئی۔ آج فوری عوامی اہمیت کے واقعے سے متعلق توجہ دلاؤ تجویز پیش کی گئی۔ اپوزیشن لیڈر ادے ندھی اسٹالن نے توجہ دلاؤ تجویز پیش کرتے ہوئے نیپال میں آفت کے دوران تمل شہریوں کے پھنسے ہونے کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا، ”نیپال میں آنے والے سیلاب میں 160 افراد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تمل ناڈو کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد تمل شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ نیپال گئے اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہ ہو پانے کے باعث ان کے رشتہ دار پریشان ہیں۔“
انہوں نے پوچھا کہ وہاں کتنے تمل شہری پھنسے ہوئے ہیں، کتنے افراد کو بچایا گیا ہے، تمل ناڈو حکومت کی جانب سے ان کی مدد کے لیے جاری کیے گئے ہنگامی امدادی نمبر پر کتنی کالز موصول ہوئی ہیں اور ان کالز کی بنیاد پر کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نیپال میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے خصوصی افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ کیا ان کے نیپال جانے کے لیے کوئی انتظام کیا گیا ہے؟ اس معاملے میں حکومت کو متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے اور انہیں تحفظ و تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ حکومت کو اس واقعے کے سلسلے میں مناسب وضاحت پیش کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد