
نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ نیپال میں تبت کی سرحد سے متصل رسوا ضلع میں بدھ کے روز آنے والی شدید آفت کے باعث اس علاقے میں موجود کم از کم 288 بھارتی شہریوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے، جبکہ کیلاش مانسروور یاترا پر گئے اور چینی حدود میں پھنسے تقریباً 200 بھارتیوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے کھٹمنڈو میں بھارتی سفارت خانہ سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نیپال میں سیلاب سے متعلق امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کی معلومات دینے کے لیے منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ ترجمان نے رابطے سے باہر لوگوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پانچ بڑے گروپ ایسے ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ ان گروپوں میں مجموعی طور پر 288 بھارتی شامل ہیں۔ ان میں تریشولی-1 پاور پروجیکٹ میں کام کرنے والے 73 بھارتیوں کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں سے گروپوں کی شکل میں پہنچے سیاح شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ 12 گھنٹوں کے دوران 21 بھارتی شہریوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیابی ملی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اس سلسلے میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتیوں کے پانچ بڑے گروپوں سے فی الحال رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ ان میں تریشولی-1 پاور پروجیکٹ میں کام کرنے والے 73 بھارتی بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق کھٹمنڈو میں واقع بھارتی سفارت خانہ ان افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے پروجیکٹ سربراہ سے رابطے میں ہے۔ علاقے میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر متاثر ہے۔ ایسے میں زمینی سطح پر لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ”جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس علاقے میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر متاثر ہے، اس لیے زمینی سطح پر لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل رہا ہے۔ تمل ناڈو کے 37 اور 49 شہریوں کے دو الگ الگ گروپ دو مختلف ٹریول ایجنٹ ’سمراٹ‘ اور ’فلائی ایورسٹ ٹریولز‘ کے ذریعے کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے تھے۔
مغربی بنگال کے 32 بھارتی شہریوں کا ایک گروپ ’سمراٹ ٹریولز‘ کی مدد سے رسوا ضلع کے تیمورے (جہاں یہ حادثہ پیش آیا ہے) میں موجود تھا۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں کے 61 بھارتی شہریوں کا ایک گروپ ’ریچا ٹورز‘ کے ذریعے سفر کر رہا تھا۔ اسی طرح کیرالہ کے 33 بھارتی شہریوں کا ایک گروپ بھی لاپتہ ہے۔
یہ بنیادی طور پر پانچ بڑے گروپ ہیں، جو مجموعی طور پر ان تقریباً 288 افراد میں شامل ہیں جن سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔“
ترجمان نے کہا، ”ہم نیپالی حکام کے ذریعے اپنے لوگوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید معلومات موصول ہوں گی اور ہم جلد از جلد آپ کو آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔“
ترجمان نے کہا کہ جمعرات کی دوپہر ایک بجے تک 21 بھارتی شہریوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیابی ملی ہے۔ 21 افراد کا یہ گروپ تمل ناڈو سے تعلق رکھتا ہے۔ کھٹمنڈو میں واقع بھارتی سفارت خانے اور سفیر نے اس گروپ کے افراد سے بات کی ہے اور انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وہ کھٹمنڈو آ رہے ہیں اور اس کے بعد جلد از جلد ان کی وطن واپسی کا انتظام کیا جائے گا۔ ان کے اہل خانہ کو اطمینان دلانے کے لیے وزارت خارجہ نے ان کی فہرست جاری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کیلاش مانسروور یاترا پر گئے تقریباً 200 بھارتی مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 95 مسافر کیلاش پہاڑ کے بیس کیمپ دارچین میں ہیں، جو نیپال میں ہلسا کے راستے واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تقریباً 20 افراد زیلانگ اور جٹورپک میں، جبکہ تقریباً 60 سے 70 افراد ساگا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی بحفاظت واپسی کے لیے بیجنگ اور کھٹمنڈو میں واقع بھارتی سفارت خانے چین اور نیپال کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔
امدادی کارروائیوں کی معلومات دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہم نے دو طیاروں کے ذریعے 47.5 ٹن امدادی اور بچاؤ کا سامان بھیجا ہے۔ بدھ کی رات ساڑھے آٹھ بجے بھارتی فضائیہ کا ایک سی-130 جے طیارہ 10 ٹن سامان لے کر گیا، جبکہ آج دن میں سی-17 ہرکیولس طیارہ ساڑھے 37 ٹن سامان لے کر روانہ ہوا۔ اس کے علاوہ حادثے کی جگہ پر دریا عبور کرنے کے لیے بیلی برج فراہم کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نیپال حکومت کی درخواست کے مطابق مزید امداد بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کل نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ سے بات چیت کی تھی۔ بھارت نیپال کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہماری جانب سے ہر ممکن انسانی امداد کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد