چینی کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس کا دعویٰ، عام لوگوں پر 36 ہزار کروڑ روپے کا اضافی بوجھ
نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لے کر الزام لگایا کہ تہواروں کے موسم میں چینی کی قیمت 45 روپے فی کلو سے بڑھ کر 70-75 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے چار ماہ میں عام لوگوں پر
چینی کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس کا دعویٰ، عام لوگوں پر 36 ہزار کروڑ روپے کا اضافی بوجھ


نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لے کر الزام لگایا کہ تہواروں کے موسم میں چینی کی قیمت 45 روپے فی کلو سے بڑھ کر 70-75 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے چار ماہ میں عام لوگوں پر تقریباً 36 ہزار کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

کانگریس رہنماو¿ں نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ حکومت نے چینی کی ممکنہ قلت سے بروقت نمٹنے کے لیے اقدامات نہیں کیے اور اب 20 اگست کو 10 لاکھ ٹن خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ برازیل سے چینی آنے اور اس کے بعد اسے ریفائن کرنے میں تقریباً 60 سے 75 دن لگ سکتے ہیں۔ ایسے میں اس کی بازار میں دستیابی تہواروں کے اہم موسم کے گزرنے کے بعد ہی ہو پائے گی۔

سرجے والا نے کہا کہ ملک میں چینی کی اوسط ماہانہ کھپت تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے، جبکہ اگست سے نومبر کے چار تہواروں والے مہینوں میں یہ بڑھ کر تقریباً 30 لاکھ ٹن فی ماہ ہو جاتی ہے۔ اس مدت میں مجموعی کھپت تقریباً 120 لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر چینی کی قیمت میں تقریباً 30 روپے فی کلو کا اضافہ برقرار رہتا ہے تو چار ماہ میں صارفین کو تقریباً 36 ہزار کروڑ روپے اضافی ادا کرنے پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2025-26 میں چینی کا ابتدائی ذخیرہ تقریباً 50 لاکھ ٹن تھا، جبکہ سال 2024-25 میں یہ 80 لاکھ ٹن تھا۔ اپریل کے آخر تک حکومت کو پیداوار اور ابتدائی ذخیرے دونوں میں کمی کے باعث ممکنہ قلت کی معلومات مل چکی تھیں، لیکن اس کے باوجود بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ایتھنول کی پیداوار میں گنے کے استعمال کو بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان ایتھنول کی پیداوار میں 32 فیصد ’شوگر کین کمپلیکس‘ کا استعمال ہوا۔ اس سے گھریلو بازار میں عام لوگوں کے لیے دستیاب چینی کی مقدار متاثر ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے سال 2017 میں راشن کی دکانوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی رعایتی چینی کی اسکیم بند کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے دور میں تقریباً 40 کروڑ لوگوں کو فی کس ماہانہ 500 گرام چینی 13.50 روپے فی کلو کی رعایتی قیمت پر دی جاتی تھی اور حکومت 18.50 روپے فی کلو کی سبسڈی دیتی تھی۔ ان کے مطابق، مودی حکومت نے سال 2017 میں یہ نظام بند کر دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande