روس کے خفیہ ادارے کے سربراہ نے سی آئی اے ڈائریکٹر سے ملاقات کی تصدیق کی
ماسکو، 27 اگست (ہ س)۔ روس کی فارن انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تھی۔ ریٹکلف اس ہفتے کے آغاز میں ماسکو پہنچے تھے۔ ترکی کی سرکاری خبر ر
روس کے خفیہ ادارے کے سربراہ نے سی آئی اے ڈائریکٹر سے ملاقات کی تصدیق کر دی


ماسکو، 27 اگست (ہ س)۔ روس کی فارن انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تھی۔ ریٹکلف اس ہفتے کے آغاز میں ماسکو پہنچے تھے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، ناریشکن نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں اس ملاقات کو معمول کے عمل کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا اور اس طرح کی بات چیت دونوں خفیہ ایجنسیوں کے کام کاج کا حصہ ہے۔

ناریشکن نے کہا، ”ملاقات کے دوران ہم نے کئی ایسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔“ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ خفیہ ایجنسیوں سے متعلق معاملات انتہائی حساس اور خصوصی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کریملن نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ جان ریٹکلف نے منگل کو ماسکو کا دورہ کیا۔ 2021 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے جب کسی موجودہ سی آئی اے ڈائریکٹر نے روس کے دارالحکومت کا دورہ کیا ہے۔

کریملن کے مطابق، ریٹکلف کے دورے کے دوران دونوں ممالک کی سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطہ ہوا۔ ماسکو نے اس طرح کے رابطے کو ”مثبت واقعہ“ اور ”مثبت عمل“ قرار دیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق، منگل کو امریکی فضائیہ کا سی-17 اے گلوب ماسٹر تھری طیارہ لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے ماسکو کے ونوکوو ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ اس سے دو روز قبل امریکہ کے میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز کے قریب کیمپ اسپرنگس سے روانہ ہوا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق، ماسکو پہنچنے کے بعد طیارہ اسی شام ریگا واپس لوٹ گیا۔ اس کے بعد امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف ملاقاتوں کے لیے ماسکو میں موجود تھے۔

اس کے علاوہ ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن نے کییف کو ریٹکلف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی امریکی وفد کے ماسکو دورے کی اطلاع دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین سے کہا گیا تھا کہ وفد کے روس سے باہر نکلنے تک حملے روک دیے جائیں۔

تاہم، اس دورے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اسے ”جزوی طور پر معمول کا“ دورہ قرار دیا۔ انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ ریٹکلف کا ماسکو دورہ نیٹو یا برطانیہ کے خلاف ممکنہ روسی فوجی کارروائی سے منسلک تھا۔

ریٹکلف اور ناریشکن کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اور امریکہ کے درمیان کئی سنگین معاملات کو لے کر کشیدگی برقرار ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کی اعلیٰ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے درمیان براہ راست بات چیت کو ایک اہم رابطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande