
واشنگٹن/بیجنگ/کاٹھمنڈو، 27 اگست (ہ س)۔
سیلاب سے بری طرح متاثر تبت کی گییور ونگ کاونٹی میں اب بھی لینڈ سلائیڈنگ، مڈ سلائیڈ (گیلی مٹی کے تیز بہاو) اور آبی تباہی کا خطرہ برقرار ہے۔ اگلے تین دن تک بارش ہونے کا امکان ہے۔ مڈ سلائیڈ کے باعث مسلسل عارضی باندھ بن رہے ہیں۔ یہ علاقہ چین کے تبت خودمختار خطے کے شیگاتسے پریفیکچر کا حصہ ہے۔ یہ کاونٹی تبت کے جنوب مغربی حصے میں نیپال کی سرحد سے متصل ہے۔ تبت سے بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے نیپال میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی مچائی ہے۔
سی این این اور ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے واضح کیا ہے کہ نیپال اور چین کی گیورونگ کاونٹی میں آنے والا خوفناک سیلاب گلیشیئر یعنی برف کے ایک بہت بڑے اور بھاری تودے کے ڈھہہ جانے کا نتیجہ ہے۔ یو ایس جی ایس نے کہا کہ یہ ارضیاتی سرگرمی اتنی شدید تھی کہ ابتدا میں اسے 4.4 شدت کا زلزلہ سمجھا گیا۔ اس سرگرمی کے بعد آس پاس کے زلزلہ پیما مراکز، طویل مدتی زلزلہ جاتی لہروں اور سیٹلائٹ تصاویر کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ زلزلہ نہیں بلکہ گلیشیئر کے منہدم ہونے اور ملبے کے بہاو¿ کا واقعہ تھا۔
امریکہ اور کینیڈا کے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق، نیپال کے گلیشیئر ہر سال 15 میٹر (50 فٹ) تک پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اس طرح کی تبدیلیوں سے پہاڑوں کی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں اور بڑی کمزور جھیلیں بن جاتی ہیں۔ ان کے ٹوٹنے سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
نیپال ٹورازم بورڈ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اب تک کم از کم 517 غیر ملکی شہریوں کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ اس کی سرحد کی دوسری جانب 260 غیر ملکی لاپتہ ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ غیر ملکیوں کے بارے میں ابھی حتمی معلومات کی تصدیق کی جا رہی ہے، تاہم ان میں کچھ سیاح اور کچھ زائرین شامل ہیں۔
نیپال نے کہا ہے کہ اس کی سرحد کی دوسری جانب سب سے زیادہ لاپتہ شہری بھارت (178)، امریکہ (65)، یوکرین (53)، ملائیشیا (51)، آسٹریلیا (35)، برطانیہ (33) اور کینیڈا (25) کے ہیں۔ نیپال میں لاپتہ ہونے والے کئی غیر ملکی شہری ٹریکنگ یا مذہبی یاترا پر تھے۔
اس دوران چین نے کہا ہے کہ چین-نیپال سرحد پر واقع اہم آفت زدہ علاقے گیورونگ بارڈر پورٹ پر ہنگامی امدادی کارکن پہنچ گئے ہیں۔ خراب موسم اور راستے بند ہونے کی وجہ سے انہیں وہاں پہنچنے میں تقریباً 22 گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔
گیورونگ کاو¿نٹی کے ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ پورٹ کے آس پاس مواصلاتی نیٹ ورک اب بھی بند ہے۔ وہ اب تک کاو¿نٹی کے اعلیٰ حکام یا کل جائے وقوع پر جانے والی امدادی ٹیموں سے رابطہ نہیں کر سکے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، علاقے میں سیکڑوں امدادی کارکنوں کو بھیجا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ گیورونگ کاو¿نٹی میں لینڈ سلائیڈنگ، مڈ سلائیڈ اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ اگلے تین دن تک بارش ہونے کا امکان ہے۔ علاقے میں کچے باندھ بن رہے ہیں۔ سرکاری براڈکاسٹر کی جانب سے دکھائی گئی تازہ ڈرون فوٹیج میں لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جگہ پر ایک بڑی جھیل بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ گییرونگ پورٹ کے قریب، لیکن سرحد کے نیپالی حصے میں بننے والی یہ نئی جھیل پھیلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
براڈکاسٹر کے مطابق اس جھیل میں اندازاً 20 لاکھ مکعب میٹر پانی موجود ہے اور یہ اوور فلو ہونے لگی ہے۔ اگلے تین دنوں میں جھیل میں مزید 30 لاکھ مکعب میٹر پانی آنے کی توقع ہے۔ اس کے پھٹنے کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ موسم خراب ہے اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ آ رہی ہے۔
چین کی فوج کی مقامی کمان کے چن شی نے بدھ کی شام کہا کہ پہاڑوں کی ڈھلوانیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔ سڑک کھڑی چٹانوں کے کنارے سے ہو کر گزرتی ہے اور ایک اور مڈ سلائیڈ کا خطرہ برقرار ہے۔ اس دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش اور بچاو¿ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ