ایران پر امریکی پابندیوں کو پاکستان نے مسترد کر دیا، تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کا اعلان
اسلام آباد، 27 اگست (ہ س)۔ پاکستان نے ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ دو طرفہ تجارت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تع
ایران پر امریکی پابندیوں کو پاکستان نے مسترد کر دیا، تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کا اعلان


اسلام آباد، 27 اگست (ہ س)۔ پاکستان نے ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ دو طرفہ تجارت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا۔

ایرانی حکومت کے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی کے مطابق، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران یہ بیان دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے یکطرفہ اقدامات اور پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

اندرابی نے کہا کہ یکطرفہ پابندیوں کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت ایسی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان وسیع تر کشیدگی کا حصہ قرار دیا اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

پاکستانی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں کا نیا دور شروع کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک اور اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نئی اقتصادی مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی نیٹ ورک پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے شراکت دار بھی امریکی کارروائی کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ چین بھی ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر امریکی دباؤ کی مخالفت کر چکا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کا معمول کا اقتصادی تعاون بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے اور اس میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بھی پاکستان نے مثبت موقف اختیار کیا ہے۔ اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ علاقائی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق تنازع کا جلد حل نکل سکتا ہے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ حتمی حل بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر منحصر ہوگا۔ پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے روابط کا استعمال کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہاں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کسی بھی کشیدگی کا بین الاقوامی تیل اور گیس کی سپلائی پر وسیع اثر پڑ سکتا ہے۔

وہیں، پاکستان نے فوج کے سربراہ عاصم منیر کے حالیہ تہران دورے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اندرابی نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیا کہ منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے طور پر ایران گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ایران کے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔

ترجمان کے مطابق، منیر نے تہران میں ایران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بامعنی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی بحران کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنے دوست ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ اس کی موجودہ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد ایران-امریکہ تعطل کو کم کرنا، علاقائی کشیدگی گھٹانا اور مذاکرات کے ذریعے امن کی راہ تلاش کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande