
نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ مرکزی حکومت 21ویں صدی کا جدید کھیلوں کا ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ آج کھیل یونیورسٹیوں سے لے کر جدید تربیتی مراکز تک ملک میں ایک مکمل نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ اس نظام میں صلاحیتوں کی شناخت سے لے کر انہیں عالمی سطح تک پہنچانے تک ہر مرحلے پر تعاون فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیلوں کی سائنس، مشق، تربیت اور تجربات کے تبادلے کے لیے بھی تعاون بڑھا رہی ہے۔ اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، ’کھیلو انڈیا ڈائیلاگ‘ اس کی ایک مثال ہے۔
وزیر اعظم نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ’کھیلو انڈیا ڈائیلاگ‘ سے خطاب کیا۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو بھارت کے کھیلوں کے سفر سے جوڑنا، ان کی امنگوں کو سمجھنا اور نوجوانوں کی قیادت میں ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ان کے خیالات حاصل کرنا ہے۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کھیلو انڈیا ڈائیلاگ صرف کھیلوں پر بات کرنے کا پروگرام نہیں ہے۔ یہ کھلاڑیوں کے خیالات اور امنگوں کو ملک کے خوابوں سے جوڑنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم اکثر سنتے ہیں کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے کھیلوں کا جذبہ ضروری ہے۔ لیکن میدان میں اترے بغیر اسے فروغ دینا بہت مشکل ہے۔ کھیل ہمیں نہ صرف چیمپئن بننا سکھاتا ہے بلکہ ایک بہتر مقابلہ کرنے والا بننا بھی سکھاتا ہے۔”
نریندر مودی نے بتایا کہ لال قلعہ سے انہوں نے 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی صلاحیتوں کی شناخت کے لیے ایک وسیع ٹیلنٹ سرچ مہم کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ بچے کس کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ کون سا کھیل ان کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ ہمیں اسی کے مطابق انہیں تربیت دینا ہوگی۔ اس معاملے میں آپ کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ ہماری حکومت 21ویں صدی کے لیے ایک جدید کھیلوں کا نظام تیار کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
انہوں نے لال قلعہ سے کیے گئے اپنے خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے سامنے کھیلوں سے متعلق ایک بڑا چیلنج ہے۔ بھارت کی ٹیم اولمپکس کے نصف کھیلوں میں حصہ نہیں لیتی اور یہ صورتحال کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے سرفنگ اور اسپورٹ کلائمبنگ کی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا، “ہمارے ملک کے پاس آبادی اور جغرافیہ، دونوں اعتبار سے مضبوط صورتحال ہے، لیکن اس کے باوجود ان کھیلوں میں ہماری مضبوط نمائندگی نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا، “آج ملک کی کوشش ہے کہ ان کھیلوں میں ماحولیاتی نظام تیار کیا جائے اور آگے بڑھنے کے امکانات پر غور کیا جائے۔”
وزیر اعظم نے اس دوران 29 اگست کو منائے جانے والے قومی کھیل دن کی پیشگی مبارکباد دی اور میجر دھیان چند کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ 100 سال قبل بھارتی فوج کی ایک ہاکی ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے پر گئی تھی اور اس ٹیم میں میجر دھیان چند بھی شامل تھے۔ وہ دورہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے 100 سال مکمل ہونے کی بنیاد ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قومی کھیل دن 2026 کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر ’میرا یوا بھارت‘ کی جانب سے منعقد کیا جانے والا یہ پروگرام ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہر ضلع سے دو، دو کالجوں کے نوجوانوں کی شرکت کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔ یہ پروگرام وزیر اعظم کے اس وژن کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں نوجوانوں کی امنگوں کو قومی ترقی کے ایجنڈے کے مرکز میں رکھتے ہوئے ایک صحت مند، نظم و ضبط کا پابند اور کھیلوں کے لیے وقف ملک کی تعمیر شامل ہے۔
ملک گیر ’کھیلو انڈیا ڈائیلاگ‘ کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمات، فٹنس اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا۔ یہ نوجوانوں کو ملک کی کھیلوں سے متعلق امنگوں سے براہ راست جڑنے کا موقع فراہم کرے گا، ساتھ ہی یہ یقینی بنائے گا کہ ان کے خیالات اور نقطۂ نظر بھارت کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام پر جاری مسلسل مباحثے کا حصہ بنیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد