
نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) کی جانب سے میڈیا کاروباری سُبھاش چندرا کی ذاتی دیوالیہ پن کے حل کے عمل میں مبینہ طور پر تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے کے بقایے کے مقابلے میں 6.5 کروڑ روپے کی ادائیگی کی تجویز کو منظوری دیے جانے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے اس فیصلے کو دیوالیہ پن اور قرض نادہندگی کوڈ (آئی بی سی)، 2016 کا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’ہیئر کٹ‘ نہیں بلکہ ’منڈن‘ ہے۔
جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب قرض دار کی جانب سے بقایا رقم کے مقابلے میں بہت کم رقم ادا کی جاتی ہے تو قرض دہندگان کو ہونے والے نقصان کو مالی زبان میں ’ہیئر کٹ‘ کہا جاتا ہے۔ سُبھاش چندرا کے معاملے میں منظور شدہ تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ صرف ہیئر کٹ نہیں ہے، بلکہ درحقیقت منڈن ہے اور دیوالیہ پن اور قرض نادہندگی کوڈ، 2016 کا مکمل مذاق اڑاتا ہے۔“
واضح رہے کہ این سی ایل ٹی نے سُبھاش چندرا کی ذاتی دیوالیہ پن کے حل کے عمل میں قرض دہندگان کے تقریباً 22,006.57 کروڑ روپے کے منظور شدہ دعووں کے تصفیے کے لیے 6.5 کروڑ روپے کی ادائیگی کی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ اس میں تقریباً 6.25 کروڑ روپے قرض دہندگان کو دیے جانے ہیں، جبکہ 25 لاکھ روپے حل کے عمل کی لاگت کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اس تجویز کی بنیاد پر قرض دہندگان کو منظور شدہ دعووں کے مقابلے میں تقریباً 99.97 فیصد کی کٹوتی قبول کرنا ہوگی۔ اس معاملے میں ایل آئی سی ہاؤسنگ فنانس سمیت کچھ قرض دہندگان نے اس تجویز پر اعتراض کیا تھا۔
اس سے قبل این سی ایل ٹی کی دو رکنی بینچ اس معاملے پر متفق نہیں تھی۔ دونوں ارکان کے درمیان اختلاف کے بعد معاملے کو حل کرنے کے لیے ٹریبونل کے چیئرمین نے عدالتی رکن نلیش شرما کو تیسرے رکن کے طور پر مقرر کیا تھا۔ نلیش شرما نے منگل کو آئی بی سی کی دفعہ 114 کے تحت ادائیگی کی اسکیم کو منظوری دی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد