خلیج بنگال میں ڈوبے جہاز کے 24 رکنی عملے میں سے بچائے گئے دو چینی شہریوں کو پارادیپ لایا گیا
۔ باقی لاپتہ عملے کے ارکان کی تلاش میں چین کے تعاون سے سمندری اور فضائی تلاشی مہم تیز کی گئی
خلیج بنگال میں ڈوبے جہاز کے 24 رکنی عملے میں سے بچائے گئے دو چینی شہریوں کو پارادیپ لایا گیا


نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ اڑیسہ کے پارادیپ ساحل سے تقریباً 240 ناٹیکل میل (444 کلومیٹر) دور خلیج بنگال میں ہفتے کے روز ڈوبنے والے پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز ایم وی اوشن وِنر کا ملبہ ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔ بھارتی کوسٹ گارڈ نے جہاز پر سوار 24 رکنی عملے میں سے بچائے گئے دو چینی شہریوں کو آج پارادیپ لا کر کمپنی کے نمائندوں کے حوالے کر دیا۔ لائف رافٹ سے بچائے گئے دونوں شہریوں کو منتقلی کے دوران انڈین کوسٹ گارڈ کے جہاز پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

دراصل، پاناما کے پرچم بردار جہاز ایم وی اوشن وِنر پارادیپ پورٹ سے 1700 ٹن لوہے کی دھات لے کر سنگاپور جا رہا تھا۔ جہاز 20 اگست کی رات روانہ ہوا تھا اور سمندر میں آگے بڑھتے ہوئے اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ بھارت کے میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو 22 اگست کو 11:48 بجے جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاع ملی۔ اس وقت جہاز پر عملے کے 24 ارکان (20 چینی، 03 میانماری اور 01 بنگلہ دیشی) سوار تھے۔ اس کے بعد بھارتی کوسٹ گارڈ اور بحریہ نے مشترکہ تلاشی اور بچاؤ کاروائی شروع کی۔ آئی سی جی نے اپنے دو جہازوں ورد اور انمول کو راحت اور بچاؤ کے کام کے لیے تعینات کیا، جبکہ آپریشن کو وسعت دینے کے لیے ایک اور جہاز وجیت کو بھی سری وجے پورم سے روانہ کیا گیا۔

بھارتی کوسٹ گارڈ کے کمانڈنٹ امت انیال نے بتایا کہ آئی سی جی کے جہاز ورد نے جہاز پر سوار 24 رکنی عملے میں سے دو چینی شہریوں، پین ٹونگ لائی اور چن جیان ہی کو 22 اگست کو ایک لائف رافٹ سے بحفاظت بچا لیا۔ پارادیپ لاتے وقت انہیں منتقلی کے دوران جہاز پر طبی امداد فراہم کی گئی اور اب انہیں بیورو آف امیگریشن اور مقامی پولیس افسران کی موجودگی میں مجاز کمپنی کے نمائندوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ باقی لاپتہ عملے کے ارکان کا پتہ لگانے کے لیے سمندری اور فضائی تلاشی کاروائی تیز کردی گئی ہے۔ چین کا میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر سری وجے پورم میں جاری ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لینے والے تمام فریقین کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 25 اگست کو تقریباً 07 بجے سرچ ایریا میں ایم وی اوشن وِنر کی ایک لائف بوٹ ملی۔ ایک بورڈنگ ٹیم نے لائف بوٹ کی جانچ کی، لیکن اس میں عملے کا کوئی رکن زندہ نہیں ملا۔ اس کے بعد علاقے میں کوسٹ گارڈ کے مزید جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کو تعینات کیا گیا ہے اور آئی سی جی ایس ورد علاقے میں تجارتی بحری جہازوں کے ساتھ مل کر لاپتہ عملے کے ارکان کی بڑے پیمانے پر تلاش کر رہا ہے۔ فضائی تلاش کے دوران ایک نیول ایئرکرافٹ نے ایک ڈسٹریس ٹرانسمیشن کا پتہ لگایا اور بتائی گئی جگہ کی جانب رہنمائی کی۔ اس کے بعد آئی سی جی ایس ورد کو علاقے سے ایک ایمرجنسی بیکن ملا، جس کی تصدیق کے بعد اس کے ایم وی اوشن وِنر سے منسلک ہونے کی تصدیق ہوئی۔ جاری سرچ اینڈ ریسکیو کوششوں کو مزید بڑھانے کے لیے کوسٹ گارڈ کے مزید جہاز تعینات کیے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande