اویسی کے بیان پر بی جے پی کا جوابی حملہ، کہا—لباس کو مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش کے ایک اسکول میں حجاب کو لے کر سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو جہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے غیر آئینی قرار دیا، وہیں بی جے پی نے
اویسی کے بیان پر بی جے پی کا جوابی حملہ، کہا—لباس کو مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔

اتر پردیش کے ایک اسکول میں حجاب کو لے کر سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو جہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے غیر آئینی قرار دیا، وہیں بی جے پی نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اویسی کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ لباس کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسکول میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنے والی طالبہ کی عرضی الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد بی جے پی رہنما شاذیہ علمی نے بھی فیصلے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن شریف میں حجاب کو لازمی قرار دیے جانے کا کوئی واضح ذکر نہیں ہے اور اسے اسلام کا لازمی حصہ قرار دینا درست نہیں ہے۔

شاذیہ علمی نے کہا کہ لوگ ثقافتی وجوہات کی بنا پر حجاب پہن سکتے ہیں، لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حجاب اسلام کا لازمی یا ضروری مذہبی جزو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایسے دعوے کرنے سے پہلے اسلام کو سنجیدگی سے سمجھنا اور پڑھنا چاہیے۔

انہوں نے برقعہ کے حوالے سے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار نہیں کیا جانا چاہیے کہ برقعہ ان کے لیے ضروری ہے۔

بی جے پی رہنما شاذیہ علمی نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ نوجوان مسلم لڑکیوں کے لباس کو مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاش اویسی جی نے قرآن شریف پڑھا ہوتا۔

قابل ذکر ہے کہ اسد الدین اویسی نے حجاب کے معاملے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے منگل کے روز اسکولوں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔ اویسی نے اسے اسلام پر حملہ قرار دیتے ہوئے آئین کے خلاف بھی بتایا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande