گروگرام میں پانی جمع ہونے اوربدحال ڈرینیج سسٹم پر دیپندر ہڈا نے حکومت کو نشانہ بنایا، سی اے جی انکوائری کا مطالبہ
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ہریانہ کے روہتک سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا نے گروگرام میں پانی جمع ہونے، ٹریفک جام، صفائی ستھرائی اور پانی کی نکاسی کے نظام کے بارے میں حکومت پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے کہا کہ گروگرام کے طویل عرصے سے رکن پارلیمنٹ
CONG-GURUGRAM-ISSUES-DEEPENDRA-HOODA


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ہریانہ کے روہتک سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا نے گروگرام میں پانی جمع ہونے، ٹریفک جام، صفائی ستھرائی اور پانی کی نکاسی کے نظام کے بارے میں حکومت پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے کہا کہ گروگرام کے طویل عرصے سے رکن پارلیمنٹ راو اندرجیت سنگھ شہر کے مسائل کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جب کہ گزشتہ 22 برسوں میں شہر کے پانی کی نکاسی کے نظام کا کوئی مستقل حل نہیں نکل سکا ہے۔ ہڈا نے گروگرام سے جمع ہونے والے ریونیو کا سی اے جی آڈٹ کرانے اور شہر کی اہم ایجنسیوں کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔

بدھ کو کانگریس ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ہڈا نے کہا کہ کبھی ملینیم سٹیکہے جانے والے گروگرام میں پانی بھرنا اور ٹریفک جام بڑے مسائل بن گئے ہیں۔ حکومت کو ان مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

ہڈا نے کہا کہ راو¿ اندرجیت سنگھ گزشتہ 12 برسوں سے گروگرام کے ایم پی ہیں اور اس سے قبل یو پی اے حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ اس کے باوجود شہر کے پانی کے نکاسی کے نظام میں مطلوبہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ گزشتہ دو برسوں میں پانی بھرنے سے متعلق واقعات میں 12 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گروگرام میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے لئے بجٹ دستیاب ہونے کے باوجود نظام میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ انہوں نے ٹریفک جام اور پانی بھر جانے میں مدد کے لیے حکومت کے کال سینٹر پر بھی سوال اٹھایا۔

ہڈا نے 7 اگست کو دہلی کے ہریانہ بھون میں مرکزی جل شکتی وزیر سی آر پاٹل کے ساتھ ہریانہ کے ارکان پارلیمنٹ کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو سیلاب اور پانی کی بجلی سے متعلق مسائل اٹھانے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ 10 میں سے 9 ممبران پارلیمنٹ موجود تھے، جبکہ گروگرام کے ایم پی راو¿ اندرجیت سنگھ نے شرکت نہیں کی۔

انہوں نے سیلاب سے متعلق ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کے بیان پر بھی اعتراض کیا۔ ہڈا نے کہا کہ جب گروگرام کے لوگ پانی بھر جانے اور ٹریفک جام جیسے مسائل سے دوچار ہیں، حکومت کو ان کے خدشات کو دور کرنا چاہئے۔

ہڈا نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں گروگرام میں کئی بڑی کمپنیاں آئیں، میٹرو کو شہر سے جوڑنے کا کام کیا گیا، گروگرام-فرید آباد چار لین والی سڑک بنائی گئی، گروگرام یونیورسٹی قائم ہوئی۔ انہوں نے گروگرام کینال، گولف کورس روڈ اور دوارکا ایکسپریس وے سے متعلق کام کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ گروگرام سے بڑی مقدار میں ریونیو اور جی ایس ٹی کی وصولی ہوتی ہے، اس لیے شہر کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مناسب وسائل مہیا کیے جانے چاہیے۔

انہوں نے گروگرام کے ریونیو کی وصولی اور استعمال کا کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) آڈٹ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے گروگرام میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ایم ڈی اے)، گروگرام کی میونسپل کارپوریشن (ایم سی جی) اور ہریانہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ایس وی پی) کو جوابدہ ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔

ہڈا نے گروگرام میں میٹرو اسٹیشن کی توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کو دیکھتے ہوئے میٹرو کی توسیع ضروری ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ گروگرام کے بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری بجٹ فراہم کرے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande