حجاب کی آڑ میں تنگ نظری پر مبنی سیاست نہیں ہونی چاہیے: مایاوتی
لکھنو¿، 26 اگست (ہ س)۔ حجاب کے تنازع پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کو زیادہ طول دے کر قانونی تنازع بنانے کے بجائے اسکول انتظامیہ اور حکومت و انتظامیہ کی مدد سے باہمی طور پ
حجاب کی آڑ میں تنگ نظری پر مبنی سیاست نہیں ہونی چاہیے: مایاوتی


لکھنو¿، 26 اگست (ہ س)۔

حجاب کے تنازع پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کو زیادہ طول دے کر قانونی تنازع بنانے کے بجائے اسکول انتظامیہ اور حکومت و انتظامیہ کی مدد سے باہمی طور پر حل کر لینا چاہیے۔ اس کی آڑ میں ”تنگ نظری پر مبنی سیاست“ نہیں ہونی چاہیے۔

مایاوتی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق دینے والا آئین دے کر ملک کو اتحاد کے دھاگے میں باندھنے اور ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کی ضمانت یقینی بنائی ہے۔ اس کے تحت تمام مذاہب کی مذہبی کتابوں، مذہبی رسومات اور عقائد کی بنیاد پر پُرامن اور خوشحال زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ اس کو نظرانداز کرنے یا اس میں مداخلت کرنے کے بجائے سبھی کو اس کے تقدس کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ خواتین کی عزت، احترام اور پردے جیسے موضوعات کو حساسیت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اسکول یونیفارم، چادر یا حجاب جیسے معاملات کو زیادہ بڑا بنا کر عدالتوں میں قانونی تنازع کا مسئلہ بنانے کے بجائے اسکول انتظامیہ اور حکومت و انتظامیہ کی باہمی سمجھ بوجھ اور دانش مندی سے حل کر لینا چاہیے، تاکہ کسی کو بھی اس کی آڑ میں تنگ نظری پر مبنی سیاست کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ بی ایس پی ہر طبقے کی سلامتی اور عزت کی ضمانت دینے والی امبیڈکر وادی پارٹی ہے، جس کا ماننا ہے کہ کسی بھی مذہب، مذہبی کتاب، مذہبی روایات اور عقائد سے متعلق حساس معاملات پر تمام لوگ تبصرہ کرنے سے گریز کریں تو یہ ملک اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بدایوں میں امبیڈکر کے مجسمے کو لے کر جاری تنازع کو بھی جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande