
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ دہلی فسادات کے دوران خفیہ محکمہ انٹیلیجینس بیورو ( آئی بی ) کے ایک افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو طاہر حسین نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ طاہر حسین کی عرضی پر ہائی کورٹ آئندہ ہفتے سماعت کرے گا۔
کڑکڑڈوما عدالت نے 31 جولائی کو اس معاملے میں طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ کڑکڑڈوما عدالت نے اس معاملے کے چھ ملزمان، حسین عرف ملاجی عرف سلمان، میر خان، فیروز، گل فام، شعیب عالم عرف بوبی اور منتظم عرف موسیٰ کو بری کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کی اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ مجرموں کو سزائے موت دی جائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ مجرموں میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
عدالت نے 13 جولائی کو اس معاملے کے تمام ملزمان طاہر حسین، ناظم، قاسم، انس اور جاوید کو قصوروار قرار دیا تھا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 3 جون 2020 کو اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ کرائم برانچ کی چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ 24 اور 25 فروری 2020 کو طاہر حسین نے اپنے گھر اور چاند باغ پلیا کے قریب واقع مسجد سے بھیڑ کی قیادت کی اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ انکت شرما کے قتل کی سازش رچی گئی تھی۔ انکت شرما کو طاہر حسین کی قیادت میں موجود بھیڑ نے خاص طور پر نشانہ بنایا۔ یہ واردات کھجوری خاص علاقے میں طاہر حسین کے گھر کے باہر ہوئی تھی۔ شرما کے قتل کے بعد بھیڑ نے لاش ایک نالے میں پھینک دی تھی۔
پولیس کے مطابق کچھ لوگ لاش کو نالے میں پھینک رہے تھے۔ انکت شرما کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹروں نے پایا تھا کہ انکت کے جسم پر تیز دھار ہتھیار سے کیے گئے 51 وار کے نشانات تھے۔ طاہر نے ہی چاند باغ علاقے میں بھیڑ کو اکسایا تھا۔ چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے انکت کے والد کے بیان پر طاہر حسین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد