ہندوستان-سیشلز کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ماہی پروری، آبی زراعت اور نیلگوں معیشت میں تعاون پر اتفاق
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ ہندوستان اور سیشلز نے ماہی گیری، آبی زراعت اور نیلگوں معیشت کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی دو طرفہ میٹنگ کی۔ ہندوستانی وفد کی قیادت سکریٹری ڈاکٹر ابھی لکش لکھی نے کی جبکہ سیشلز کی طرف سے ماہ
INDIA-SEYCHELLES-FISHERIES-BLUE-ECONOMY


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ ہندوستان اور سیشلز نے ماہی گیری، آبی زراعت اور نیلگوں معیشت کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی دو طرفہ میٹنگ کی۔ ہندوستانی وفد کی قیادت سکریٹری ڈاکٹر ابھی لکش لکھی نے کی جبکہ سیشلز کی طرف سے ماہی پروری، زراعت اور نیلگوں معیشت کے وزیر والیس کاسگرو نے نمائندگی کی۔

ماہی پروری، مویشی پروی اور ڈیری کی مرکزی وزارت کے مطابق منگل کو ہونے والی میٹنگ میں دونوں ملکوں نے موجودہ فریم ورک کا جائزہ لیا، نئے باہمی تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے ایک ٹھوس روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ ہندوستانی قیادت نے سیشلز کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہری بحری شراکت داری ہے اور ہندوستان ماہی گیری، آبی زراعت، سائنسی تحقیق اور صلاحیت سازی میں تکنیکی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

بات چیت کے دوران، دونوں ملکوں نے ماہی گیری کے شعبے اور نیلگوں معیشت کو اقتصادی ترقی، دیہی روزگار اور پائیدار ترقی کے اہم ستونوں کے طور پر اجاگر کیا۔ ہندوستانی وفد نے بتایا کہ ملک کی سالانہ مچھلی کی پیداوار 1.97کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے اور سمندری مصنوعات کی برآمدات 8.46 ارب امریکی ڈالر کی ہیں۔ ہندوستان نے پائیدار ماہی گیری کے انتظام، ذمہ دارانہ استحصال اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اپنے اقدامات کا اشتراک کیا۔

میٹنگ میں سمندری آبی زراعت، جدید ہیچریوں، ٹونا ماہی گیری کے فروغ، مچھلیوں کے ذخائر کے تخمینے، فصل کے بعد کی جدید انجینئرنگ اور سمندری تحفظ جیسے شعبوں میں مشترکہ ترقی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے ماہی گیری کے ڈیٹا سسٹم، نگرانی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انتظام میں تعاون کے امکانات بھی تلاش کیے۔ ٹونا پروسیسنگ، مصنوعات کی تنوع اور پائیدار فضلہ کے انتظام پر بھی زور دیا گیا۔

سیشلز نے ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے میں ایک مخصوص دو طرفہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو انجام دینے کی خواہش کا اظہار کیا اور ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں سینٹرز آف ایکسی لینس کے ساتھ تعاون کے ذریعے باہمی اہمیت، تکنیکی تبادلوں اور صلاحیت سازی پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande