
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) 2025 کے امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر جھارکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن ہی جوڈیشل سروس کا امتحان منعقد کرتا ہے۔ ہمیں تو اس کی فکر ہو رہی ہے۔
سماجی کارکن ہری شرن دیوگن نے دائر عرضی میں مطالبہ کیا ہے کہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے 2025 کے امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ سی بی آئی جانچ کرائی جائے۔ وکیل ستیَم سنگھ راجپوت کے ذریعے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جھارکھنڈ سی آئی ڈی سے ہٹا کر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کی جائیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایسی تفتیشی ایجنسی مقرر کی جائے جو ریاستی حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو، تاکہ عام لوگوں کا اعتماد برقرار رہے۔
یہ تنازع 19 اپریل کو منعقد جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے پریلمز امتحان سے متعلق ہے۔ اس کا نتیجہ 2 جولائی کو جاری کیا گیا تھا۔ نتیجہ جاری ہونے کے بعد ایک امیدوار کی او ایم آر شیٹ کی نقل وائرل ہوئی تھی، جس میں اس نے 100 میں سے صرف 48 سوالات حل کرنے کی کوشش کی تھی، اس کے باوجود وہ امتحان میں کامیاب قرار دیا گیا۔
اس معاملے میں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ اس نے امتحان منعقد کرنے کے لیے ٹی ایس ڈی پی ایل کا انتخاب کیا تھا۔ ٹی ایس ڈی پی ایل کو اس امتحان سے چند ماہ قبل ہی جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن نے بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ