
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے کَویری آبی تنازع سے متعلق سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کرناٹک کی جانب سے پانی کا متناسب حصہ جاری نہ کیے جانے کا معاملہ کَاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سامنے اٹھائے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ ہدایت دی۔ معاملے کی اگلی سماعت 31 اگست کو ہوگی۔
سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اسے کرناٹک کی جانب سے پانی کا متناسب حصہ نہیں مل رہا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ تمل ناڈو کو اس کے مقررہ کوٹے سے زیادہ پانی مل چکا ہے۔ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے جواب دیا گیا کہ کَویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے متناسب حصے کی ضرورت کے مطابق پانی جاری کرنے کی ہدایت نہیں دی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ریاست کو ہدایت دی کہ وہ اپنی شکایت سی ڈبلیو ایم اے کے سامنے رکھے۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے کرناٹک حکومت کو کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ہدایات پر عمل کرنے اور تمل ناڈو کے لیے پانی جاری کرنے کو کہا تھا۔ عدالت نے اتھارٹی سے تازہ صورتحال پر رپورٹ بھی طلب کی تھی۔سابقہ سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سی ایس ویدھی ناتھن نے الزام لگایا تھا کہ کرناٹک حکومت سی ڈبلیو ایم اے کی ہدایات کے مطابق پانی جاری نہیں کر رہی ہے، جس کی وجہ سے ریاست کے کسانوں کو ضروری پانی نہیں مل پا رہا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کاویری واٹر ڈسپیوٹ ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق تمل ناڈو کو اب تک 64 ٹی ایم سی پانی ملنا چاہیے تھا، لیکن اسے صرف 14 ٹی ایم سی پانی ملا ہے۔دوسری جانب کرناٹک حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل شیام دیوان نے تمل ناڈو کے الزامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرناٹک خود کاویری بیسن میں شدید آبی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی ہدایات جاری کرتے وقت اس صورتحال کو مدنظر رکھا تھا۔
شیام دیوان نے عدالت کو بتایا تھا کہ اتھارٹی نے ابتدائی 15 دن کے لیے روزانہ 3,500 کیوسک پانی جاری کرنے کی ہدایت دی تھی اور کرناٹک نے نہ صرف اس پر عمل کیا بلکہ مقررہ مقدار سے زیادہ پانی بھی چھوڑا۔
3 اگست کو تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کَویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے احکامات کے باوجود کرناٹک مقررہ مقدار میں پانی جاری نہیں کر رہا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ کرناٹک کے آبی ذخائر میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہونے کے باوجود تمل ناڈو کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ ریاست نے عدالت سے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر پانی فراہم کرانے کی درخواست کی تھی۔
دراصل 28 جولائی کو کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی کی میٹنگ میں موسمی حالات اور پانی کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس کے بعد کمیٹی نے کرناٹک کو ہدایت دی تھی کہ وہ کرشن راج ساگر اور کابینی آبی ذخائر سے پانی چھوڑ کر 29 جولائی سے 12 اگست کے درمیان بلی گنڈلو میں روزانہ 3,500 کیوسک پانی کی دستیابی یقینی بنائے۔اس فیصلے کو 30 جولائی کو کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی 54ویں ہنگامی میٹنگ میں بھی منظوری دے دی گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan