
ممبئی ، 20 اگست(ہ س)۔
ممبئی کے کاندیولی ویسٹ میں نقلی جیولری بنانے والی ایک یونٹ پر پولیس نے
چھاپہ مار کر 13 کم عمر مزدوروں کو آزاد کرایا ہے۔ چارکوپ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے
کارروائی کے دوران یونٹ کے مالک اور آپریٹر کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے
معاملے کی تفصیلی تفتیش جاری ہے۔پولیس کے مطابق چارکوپ انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع جہارا فیشن
ایرا نامی جیولری یونٹ میں کم عمر بچوں سے کام کرائے جانے کی اطلاع پولیس کو ملی
تھی۔ اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے یونٹ پر چھاپہ مارا اور وہاں کام کرنے
والے 13 بچوں کو آزاد کرایا۔ ان بچوں کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔
ابتدائی
تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ بچوں سے نقلی جیولری اور چوڑیاں بنانے کا کام کرایا
جارہا تھا۔ مبینہ طور پر بچوں سے روزانہ 9 سے 10 گھنٹے تک کام لیا جاتا تھا اور
انہیں مناسب اجرت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق تمام 13 بچے مغربی بنگال
کے مختلف اضلاع کے رہنے والے بتائے جارہے ہیں۔پولیس اب یہ
معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ ان بچوں کو مغربی بنگال سے ممبئی کیسے لایا گیا
اور کیا انہیں خاص طور پر اس جیولری یونٹ میں کام کرانے کے لیے لایا گیا تھا۔
چھاپے کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بچے مبینہ طور پر اسی کام کی جگہ پر رہ رہے
تھے۔
پولیس
کے مطابق یونٹ کے مالک اور آپریٹر بچوں کی عمر سے متعلق قانونی دستاویزات بھی پیش
نہیں کرسکے۔ اس کے بعد یونٹ کے مالک انکت کمار مہندر راول اور آپریٹر سمینور موتیار
رحمان شیخ کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس بچوں کی مبینہ بھرتی کے
طریقہ کار اور انہیں مغربی بنگال سے ممبئی لانے میں ملوث افراد کے بارے میں بھی
معلومات جمع کررہی ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا معاملہ صرف اسی
یونٹ تک محدود ہے یا کم عمر بچوں کی بھرتی کرکے ان سے کام کرانے والا کوئی بڑا نیٹ
ورک بھی سرگرم ہے۔بچائے گئے تمام 13 بچوں کے
معاملے میں پولیس کی جانب سے مزید کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان
سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے