بنگلہ دیش میں صدر کے عہدے کے لیے انتخاب آج، 35 برسوں میں پہلی بار ووٹنگ ہوگی
ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، 20 اگست (ہ س)۔ ملک کے اراکین پارلیمنٹ آج 23 ویں صدر کا انتخاب کریں گے۔ 35 برسوں میں پہلی بار صدر کے عہدے کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہاوس میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک کل 349 ارکان پارلیمنٹ ووٹ ڈال سکیں گے۔ برسرِ اقتدار
بنگلہ دیش کا صدارتی محل۔ اسے بنگ بھون بھی کہا جاتا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، 20 اگست (ہ س)۔ ملک کے اراکین پارلیمنٹ آج 23 ویں صدر کا انتخاب کریں گے۔ 35 برسوں میں پہلی بار صدر کے عہدے کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہاوس میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک کل 349 ارکان پارلیمنٹ ووٹ ڈال سکیں گے۔ برسرِ اقتدار بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا مقابلہ کرنل (ریٹائرڈ) اولی احمد سے ہے۔ کرنل اولی احمد بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی قیادت والے 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار ہیں۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، 8 اکتوبر 1991 کے بعد صدر کے عہدے کا یہ پہلا ایسا انتخاب ہے جس میں ایک سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ 1991 کے اس انتخاب میں بی این پی کے امیدوار عبد الرحمن بسواس نے عوامی لیگ کے جسٹس بدر الحیدر چودھری کو شکست دی تھی۔ تب سے پارلیمانی نظام کے تحت صدارتی انتخابات بلا مقابلہ ہوتے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں 350 نشستیں ہیں، جن میں 300 جنرل نشستیں اور خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ چٹاگانگ-4 کی نشست خالی ہے، اس لیے 349 اراکین پارلیمنٹ ووٹ ڈال سکیں گے۔

پارلیمنٹ میں بی این پی کے پاس واضح اکثریت ہے، اس لیے مرزا فخر الاسلام کی جیت کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ آئین کی دفعہ 70 بھی اہم ہے۔ اس شق کے تحت پارٹی امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے اگر وہ پارلیمنٹ میں اس پارٹی کے خلاف ووٹ دے جس نے اسے نامزد کیا تھا۔ ووٹنگ کا انتظام پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں کیا گیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ ایوان کے اندر بیلٹ باکس میں اپنا ووٹ ڈالنے سے قبل اپنی ترجیح بتائیں گے۔

ووٹنگ شام 5 بجے ختم ہوگی، جس کے فوری بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کریں گے۔ ووٹنگ اور نتائج کے اعلان کی براہِ راست نشریات (لائیو ٹیلی کاسٹ) کی جائیں گی۔ انتخاب کی سابقہ شام بی این پی پارلیمانی پارٹی نے بدھ کی دوپہر پارلیمنٹ ہاوس میں میٹنگ کی۔ یہ میٹنگ شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاوس کی نویں منزل پر منعقد ہوئی۔ اس کی صدارت وزیر اعظم اور قائدِ ایوان طارق رحمان نے کی۔ امیدوار مرزا فخر الاسلام بھی اس میٹنگ میں شریک ہوئے۔ بعد ازاں چیف وہپ نور الاسلام مونی نے کہا کہ یہ انتخاب ملک کے جمہوری سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔

آزادی کے بعد سے بنگلہ دیش میں صدر کے انتخاب کا طریقہ کار کئی بار تبدیل ہوا ہے۔ پارلیمانی نظام کے تحت ملک کا پہلا صدارتی انتخاب 1974 میں ہوا تھا۔ اس انتخاب میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد اللہ کو صدر منتخب کیا گیا تھا۔ 1978، 1981 اور 1986 میں براہِ راست عوام کے ووٹوں سے صدر منتخب کیے گئے۔ 1978 میں ضیاء الرحمن، 1981 میں جسٹس عبد الستار اور 1986 میں حسین محمد ارشاد نے کامیابی حاصل کی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande