
اے ایم یو کی 46 بیگھہ زمین پر نگر نگم کی کارروائی، اے ایم یو نے قانونی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا
علی گڑھ, 20 اگست (ہ س)۔
علی گڑھ میں آج نگر نگم اور ضلع انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اے ایم یو کے قبضہ والی زمین بھمولا مافی واقع نگلا پٹواری میں تقریباً 3.863 ہیکٹر یعنی قریب 46 بیگھہ زمین پر قبضہ حاصل کر لیا۔ نگر نگم کے مطابق اس قیمتی زمین کی تخمینی قیمت 500 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ زمین اے ایم یو کے رائیڈنگ فیلڈ سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔حالانکہ قبضہ کے بعد اے ایم یو انتظامیہ بھی حرکت میں آگیا وائس چانسلر پروفسیر نعیمہ خاتون نے دیگر افسران کے ہمراہ موقع کا معائنہ کرتے ہوئے اس کاروائی کی غلط ٹھہرایا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق علی گڑھ نگر آیکت پریم پرکاش مینا کی موجودگی میں نگر نگم، محکمۂ محصولات اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے زمین کی پیمائش کرائی۔ اس کے بعد زمین کے چاروں طرف تاروں کی فینسنگ کرائی گئی اور نگر نگم کی ملکیت کے بورڈ نصب کیے گئے۔ افسران کے مطابق ریونیو ریکارڈ میں یہ زمین اُسر اور بنجر کے طور پر درج ہے۔
نگر آیکت نے بتایا کہ مجموعی طور پر 3.863 ہیکٹر زمین 10 گاتا نمبروں میں ہے۔ ریونیو ٹیم کی جانب سے اس کی پیمائش 7 اپریل 2025 کو ہی کی جا چکی تھی، جبکہ 16 اپریل 2025 کو ایس ڈی ایم کول کی جانب سے نگر نگم کو مزید کارروائی کے لیے خط بھیجا گیا تھا۔
افسران کے مطابق یہ زمین ماضی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قبضے میں تھی، تاہم موقع پر زمین پر اے ایم یو کی جانب سے کوئی تعمیر نہیں پائی گئی۔ نگر نگم نے زمین پر اپنا قبضہ حاصل کرتے ہوئے اسے محفوظ کر لیا ہے۔
نگر آیکت پریم پرکاش مینا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی منشا کے مطابق قبضے میں لی گئی اس قیمتی زمین کا استعمال عوامی اور شہر کے مفاد میں منصوبوں کے لیے کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پولیس تھانے کے علاوہ بچوں کے اسکول، انٹر کالج، اسپتال اور اسپورٹس کمپلیکس جیسے منصوبوں پر مستقبل میں غور کیا جا سکتا ہے۔
اے ایم یو نے نگر نگم کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا
دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے نگر نگم کی کارروائی پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائیڈنگ فیلڈ کی متعلقہ زمین یونیورسٹی کی قانونی ملکیت ہے اور اس سے متعلق تمام دستاویزات، ریکارڈ اور قانونی شواہد یونیورسٹی کے پاس موجود ہیں۔
اے ایم یو کے مطابق 13 جون 1925 سے یہ زمین ’حصولِ اراضی قانون 1894‘ کے تحت یونیورسٹی کی تحویل میں ہے، جبکہ 19 نومبر 1940 کو یونائیٹڈ پرووِنس کے گورنر نے یہ اراضی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے حاصل کی تھی۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ زمین طویل عرصے سے اس کی ملکیت میں ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ اے ایم یو مرکزی حکومت کے ماتحت ایک خودمختار تعلیمی ادارہ ہے اور اس کی املاک مرکزی حکومت کے تحت آتی ہیں۔ ایسے میں نگر نگم کی جانب سے زمین کو قبضہ سے آزاد کرانے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔
اے ایم یو نے الزام لگایا کہ سال 1992 میں یونیورسٹی کے ریونیو ریکارڈ میں خفیہ طریقے سے مبینہ ہیرا پھیری کی گئی، جو کسی مجاز افسر کے حکم یا منظوری کے بغیر کی گئی تھی۔ یونیورسٹی کے مطابق سال 2003 میں اس معاملے کا علم ہونے کے بعد سے ریونیو ریکارڈ میں تصحیح کے لیے مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی نے بتایا کہ 29 مارچ 2025 کو ریونیو ریکارڈ میں تصحیح کے لیے مجاز سطح پر قانونی طور پر اپنا دعویٰ پیش کیا گیا تھا، جو اب بھی ایس ڈی ایم کول کے یہاں زیر التوا ہے۔ اے ایم یو نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ زیر التوا ہے تو ایس ڈی ایم کول کی موجودگی میں نگر نگم کی جانب سے یونیورسٹی کی زمین پر کارروائی کس قانونی بنیاد پر کی گئی۔
اے ایم یو نے یہ بھی بتایا کہ 3 جنوری 2022 کو پیمائش کے بعد 6 جنوری 2022 کو تحصیلدار، قانون گو اور لیکھ پال کی مشترکہ رپورٹ میں یہ زمین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گھوڑسوار فیلڈ کے نام پر درج کی گئی تھی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے نگر نگم سے فوری طور پر کارروائی روکنے اور زیر التوا معاملے کا منصفانہ اور قانونی تصفیہ ہونے تک صورتِ حال جوں کی توں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اے ایم یو کے مطابق کارروائی کے خلاف اساتذہ، ملازمین، موجودہ اور سابق طلبہ میں بھی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
وائس چانسلر نے معاملے کا نوٹس لیا
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر سطح پر ضروری کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اپنی املاک اور ریکارڈ کے تحفظ کے لیے تمام ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
یونیورسٹی کے مطابق معاملہ علم میں آنے کے بعد اے ایم یو پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان اپنی ٹیم کے ساتھ، ممبر انچارج پراپرٹی پروفیسر محمد آصف اور پراپرٹی آفیسر محمد عارف اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے اور کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے یونیورسٹی کا موقف پیش کیا۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے مذکورہ عہدیداران نے نگر آیکت اور ایس ڈی ایم سے ملاقات کرکے یونیورسٹی کا موقف ان کے سامنے رکھا۔
اس موقع پر اموٹا کے صدر پروفیسر طفیل احمد اور سکریٹری اشرف متین بھی یونیورسٹی عہدیداران کے ساتھ موجود تھے۔
ایس ڈی ایم نے زمین کو سرکاری قرار دیا
وہیں ایس ڈی ایم کول ڈاکٹر گجیندر پال سنگھ نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ میں زمین اُسر اور بنجر درج ہے اور ملکیت کی بنیاد پر اسے سرکاری زمین تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمین سے چھیڑ چھاڑ یا دوبارہ قبضے کی کوشش کرنے پر ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
کارروائی کے دوران ایس ڈی ایم کول گجیندر پال سنگھ، اسسٹنٹ نگر آیکت تپسیا یادو، اے سی ایم-2 پریتوش مشرا، سی او سروَم سنگھ، محکمۂ املاک، انفورسمنٹ ٹیم، پولیس اور تعمیراتی محکمہ کی ٹیم موجود رہی۔
نگر نگم اور اے ایم یو کے الگ الگ دعووں کے بعد اب اس زمین کی ملکیت اور ریونیو ریکارڈ کو لے کر تنازع سامنے آ گیا ہے۔ اے ایم یو کا کہنا ہے کہ معاملہ ایس ڈی ایم کول کے یہاں زیر التوا ہے، جبکہ انتظامیہ ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر زمین کو سرکاری قرار دے رہی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ