8.30 کروڑ روپے کے کپڑا فراڈ کا مرکزی ملزم دبئی سے واپسی پر گرفتار
جے پور، 02 اگست (ہ س)۔ راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ایک کپڑا تاجر سے 8.30 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں موہانہ تھانہ پولیس نے مرکزی ملزم کو دبئی سے واپسی کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ ملزم جے پور میں فرضی فرم قائم کرکے تاجروں کا اعتماد
8.30 کروڑ روپے کے کپڑا فراڈ کا مرکزی ملزم دبئی سے واپسی پر گرفتار


جے پور، 02 اگست (ہ س)۔

راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ایک کپڑا تاجر سے 8.30 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں موہانہ تھانہ پولیس نے مرکزی ملزم کو دبئی سے واپسی کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ ملزم جے پور میں فرضی فرم قائم کرکے تاجروں کا اعتماد حاصل کرتا، کروڑوں روپے مالیت کا کپڑا ادھار لیتا اور پھر بیرون ملک فرار ہو جاتا تھا۔

پولیس تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم نے کئی تاجروں سے دھوکہ دہی کرنے کے علاوہ اپنی فرموں کے نام پر مختلف بینکوں سے قرض بھی حاصل کیا، جس کی ادائیگی نہیں کی۔

ڈی سی پی (جے پور جنوبی) راجرشی راج نے بتایا کہ پولیس نے پھلودی ضلع کے متوڑہ گاو¿ں کے رہائشی کمل چانڈک کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے پوچھ گچھ کے دوران اس کے دیگر ساتھیوں اور پورے گروہ کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملزم پہلے کسی نئے شہر میں جا کر نئی فرم قائم کرتا تھا۔ ابتدا میں وہ تاجروں کو بروقت ادائیگی کرکے ان کا اعتماد جیتتا اور بازار سے زیادہ قیمت ادا کرکے خود کو قابل اعتماد ثابت کرتا تھا۔ اعتماد قائم ہونے کے بعد وہ بڑی مقدار میں مال خریدتا، کروڑوں روپے کی ادائیگی واجب چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہو جاتا، جبکہ اس کے ساتھی بعد میں وہ مال فروخت کرکے رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔

اس معاملے میں کپڑا تاجر بھیرولال نے 28 مارچ کو موہانہ تھانے میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت کے مطابق ہرپیاری ایکسپورٹ لمیٹڈ اور رادھیکا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ لمیٹڈ کے نام سے چلنے والی فرموں نے 2024 سے کپڑا خریدنا شروع کیا۔ ابتدائی لین دین میں بروقت ادائیگی کرکے اعتماد حاصل کیا اور بعد میں زیادہ طلب کا بہانہ بنا کر تقریباً 8.30 کروڑ روپے مالیت کا کپڑا خرید لیا۔ اس کے بعد ملزم اور اس کی بیوی فرار ہو گئے۔

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ فرم کا رجسٹریشن ایک کرائے کے پتے پر تھا، لیکن وہاں بھی دونوں موجود نہیں تھے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی فرموں کے ذریعے سات بینکوں سے کیش کریڈٹ (سی سی) اور بزنس لون بھی حاصل کیے۔ بعد ازاں وہ دبئی چلا گیا، جبکہ اس کی بیوی اور دیگر ساتھی خریدے گئے کپڑے کو فروخت کرکے رقم آپس میں تقسیم کرتے رہے۔

تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم اور اس کے گروہ نے جے پور کے کئی تاجروں سے 15 سے 20 کروڑ روپے مالیت کا کپڑا خرید کر دھوکہ دہی کی ہو سکتی ہے۔ پولیس ملزم سے مزید پوچھ گچھ کر رہی ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران اسی نوعیت کی مزید کئی وارداتوں کا انکشاف ہو سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande