
دمشق،19اگست(ہ س)۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں کئی ٹن جوہری مواد موجود ہے، جس کے بارے میں نئی شامی حکومت نے ادارے کو اطلاع دی اور معائنہ کاروں کو اس تک رسائی فراہم کی ہے۔ گروسی کے مطابق اس مواد کی نوعیت، مقدار اور ممکنہ استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اسے بین الاقوامی حفاظتی نگرانی کے دائرے میں لایا جائے گا۔گروسی نے دمشق میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آئی اے ای اے کی ٹیم نے دیر الزور میں سابق حکومت کے دور کے مشتبہ جوہری مرکز کا دورہ کیا، جہاں کھدائی اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ معائنہ کاروں نے ایک دوسرے مقام کا بھی معائنہ کیا، جہاں جوہری مواد کی موجودگی کی اطلاع سامنے آئی تھی، تاہم آئی اے ای اے نے اس مقام کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔شام کی نئی حکومت نے سابق صدر بشار الاسد کے دور سے چلے آرہے جوہری معاملے کی تحقیقات میں آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا کہ دمشق جوہری مواد کو بین الاقوامی حفاظتی نظام کے تحت رکھنے اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔آئی اے ای اے کے مطابق شام نے 17 جولائی 2026 کو ایک ایسے مقام پر موجود جوہری مواد کے بارے میں باضابطہ طور پر اطلاع دی تھی جسے اس سے قبل ایجنسی کے سامنے ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ نئی حکومت نے بعد ازاں معائنہ کاروں کو متعلقہ مقامات تک رسائی فراہم کی۔شام کے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں ملک کے ایک غیر اعلانیہ جوہری پروگرام پر طویل عرصے سے بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس پروگرام کے سلسلے میں شمالی کوریا کی مبینہ مدد سے دیر الزور میں ایک ری ایکٹر تعمیر کیا گیا تھا، جسے اسرائیل نے 2007 میں فضائی حملے میں تباہ کر دیا تھا۔آئی اے ای اے نے برسوں تک اس معاملے کی تحقیقات کیں، تاہم سابق شامی حکومت کے ساتھ تعاون محدود رہا۔ 2024 میں ایجنسی کے معائنہ کاروں نے دیر الزور سے متعلق مقامات پر نمونے حاصل کیے تھے، جن میں یورینیم کے ذرات کی موجودگی سامنے آئی تھی۔ آئی اے ای اے کی سابقہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ دیر الزور کے مبینہ ری ایکٹر سے متعلق بعض دیگر مقامات پر یورینیم کی پروسیسنگ یا ایندھن کی تیاری سے وابستہ سرگرمیاں ہوئی تھیں۔رافیل گروسی نے کہا کہ معاملہ معمولی مقدار میں جوہری مواد کا نہیں بلکہ کئی ٹن مواد کا ہے، جس کی مکمل فہرست سازی، مقدار کے تعین اور نوعیت کی تصدیق ضروری ہے۔ ان کے مطابق آئی اے ای اے اس مواد کو محفوظ رکھنے اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے شامی حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔حالیہ پیش رفت کو شام کے جوہری پروگرام سے متعلق کئی برس سے جاری عالمی تحقیقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی حکومت کی جانب سے معائنہ کاروں کو پہلے سے غیر اعلانیہ مقامات تک رسائی دینے سے آئی اے ای اے کو سابق حکومت کے جوہری پروگرام کی مکمل تصویر واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔شامی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد، بالخصوص صحت، خوراک، تحقیق اور سائنسی ترقی کے شعبوں میں استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ دمشق نے اس عمل کو آئی اے ای اے کی نگرانی اور بین الاقوامی حفاظتی ضوابط کے مطابق آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan