بھارتی شیئر بازار میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی غیر ملکی سرمایہ کار بنے رہے خریدار، اگست میں 16,621 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری
نئی دہلی، 16 اگست (ہ س)۔ بھارتی شیئر بازار میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ جولائی کے بعد اگست کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارتی ایکویٹی مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کی ہے۔
بھارتی شیئر بازار میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی غیر ملکی سرمایہ کار بنے رہے خریدار، اگست میں 16,621 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری


نئی دہلی، 16 اگست (ہ س)۔ بھارتی شیئر بازار میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ جولائی کے بعد اگست کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارتی ایکویٹی مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کی ہے۔ 14 اگست تک ایف پی آئی نے مجموعی طور پر 16,621 کروڑ روپے بھارتی شیئر بازار میں لگائے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں بہتری کے امکانات اور بھارتی شیئر مارکیٹ کی مضبوط صورتحال کے پیش نظر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی یا ملکی سطح پر کوئی بڑا منفی واقعہ پیش نہیں آتا تو اگست کے تیسرے اور چوتھے ہفتے میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں زیادہ تر عرصے تک غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی شیئر بازار میں فروخت کنندہ کا کردار ادا کرتے رہے۔ فروری اور جولائی کے علاوہ سال کے دیگر مہینوں میں ایف پی آئی نے بڑی مقدار میں شیئر فروخت کیے اور بھارتی بازار سے سرمایہ نکالا۔

جولائی میں صورتحال تبدیل ہوئی اور ایف پی آئی نے فروخت کے مقابلے میں خریداری پر زیادہ زور دیا۔ اس دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 20,199 کروڑ روپے کی خالص سرمایہ کاری کی۔اس سے قبل 2026 میں فروری واحد ایسا مہینہ تھا جب ایف پی آئی خالص خریدار رہے تھے۔ فروری میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 22,615 کروڑ روپے بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں لگائے تھے۔

سنٹرل ڈپازٹری سروسز (انڈیا) لمیٹڈ (سی ڈی ایس ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست کے دوسرے ہفتے تک ایف پی آئی کی سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤ رہا۔جنوری میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 35,962 کروڑ روپے کی خالص فروخت کی۔ فروری میں انہوں نے 22,615 کروڑ روپے کی خریداری کی، لیکن مارچ میں ایک بار پھر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور ایف پی آئی نے تقریباً 1.17 لاکھ کروڑ روپے بھارتی بازار سے نکال لیے۔اپریل میں بھی فروخت کا سلسلہ جاری رہا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 60,847 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے۔ مئی میں یہ رقم 32,963 کروڑ روپے رہی، جبکہ جون میں ایف پی آئی نے بھارتی شیئر مارکیٹ سے 49,340 کروڑ روپے نکالے۔اس کے بعد جولائی میں 20,199 کروڑ روپے کی خالص خریداری ہوئی اور اگست کے پہلے دو ہفتوں میں 16,621 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری، جولائی اور اگست کے ابتدائی دو ہفتوں میں خریداری کے باوجود 2026 کے آغاز سے اب تک غیر ملکی سرمایہ کار مجموعی طور پر بھارتی شیئر بازار سے 2,36,677 کروڑ روپے کی خالص رقم نکال چکے ہیں۔

تاہم جولائی کے بعد اگست میں بھی ایف پی آئی کی خریداری جاری رہنے سے بازار کے لیے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر خریداری کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔فِن ریکس ٹریژری ایڈوائزرز ایل ایل پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انیل بھنسالی کے مطابق بھارت کے بہتر ہوتے گھریلو معاشی اشاریے، روپے میں استحکام، خام تیل کی قیمتوں میں نسبتاً کمی اور عالمی بحران کے باوجود سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت نے بھارتی بازار کے تئیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق بہتر ہوتی مجموعی معاشی صورتحال یعنی میکرو اکنامک حالات نے بھی بھارتی شیئر بازار کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande