
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ویر ساورکر پرکانگریس رہنما کے بیان کے معاملے میں لکھنو کے ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف زیر التوا مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمہ کو خارج کر دیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔
سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف لکھنو¿ عدالت کے سمن آرڈر کو بھی منسوخ کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اتر پردیش حکومت کے حلف نامہ میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری ملی ہو۔ اس لیے ٹرائل کورٹ کا حکم مسترد کیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے 25 اپریل 2025 کو سپریم کورٹ نے ساورکر سے متعلق بیان پر راہل گاندھی کی سرزنش کی تھی۔ عدالت نے کہا تھاکہ ہم مجاہدین آزادی کے بارے میں کسی کو اناپ شناپ بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے ہمیں آزادی دلائی اور ہم ان کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں؟ عدالت نے راہل گاندھی کو خبردار کیا کہ اگر وہ دوبارہ ایسے بیانات دیتے ہیں تو ہم از خود نوٹس لے کر کارروائی کریں گے۔
تاہم، 25 اپریل 2025 کو سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف لکھنو¿ کی ایک ٹرائل کورٹ میں زیر التوا مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے پر روک لگا دی تھی۔ عدالت نے انتباہ جاری کرتے ہوئے نچلی عدالت کے ذریعہ راہل گاندھی کو جاری کردہ سمن پر روک لگا دی تھی۔
اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی نے ساورکر کے خلاف بیانات دیتے ہوئے انہیں انگریزوں کا نوکر قرار دیا اور کہا کہ ساورکر انگریزوں سے پنشن لیتے تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس دیپانکر دتہ نے سوال کیا کہ کیا ہم مہاتما گاندھی کو انگریزوں کا نوکر اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وائسرائے کو لکھے اپنے خط میں ’یور فیتھ فلی سرونٹ ‘ کہا تھا؟ عدالت نے راہل گاندھی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی سے کہاتھاکہ”آپ کے موکل کی دادی نے، جو اس وقت کی وزیر اعظم تھیں، نے ساورکر کی تعریف میںخط لکھے تھے۔ آپ مجاہدین آزادی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔ آپ کو راہل گاندھی سے کہیےکہ وہ مجاہدین آزادی کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیان نہ دیں۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد