آسام کے تین کروڑ سے زائد شہریوں کو شناختی کارڈ نہ دینا افسوسناک:مفتی مکرم
نئی دہلی ،14اگست (ہ س )۔ شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ قرآن کریم کا احترام کریں اور تلاوت کو روزمرہ کے معمولات میں شامل کریں اسکے معنی اور مفہوم ک
آسام کے تین کروڑ سے زائد شہریوں کو شناختی کارڈ نہ دینا افسوسناک:مفتی مکرم


نئی دہلی ،14اگست (ہ س )۔

شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ قرآن کریم کا احترام کریں اور تلاوت کو روزمرہ کے معمولات میں شامل کریں اسکے معنی اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ عید میلاد النبیﷺ ۶۲ اگست بروز بدھ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جشن آزادی منایا جا رہا ہے یہ 140 کروڑ عوام کا تہوارہے مسلم ادارے اور مدارس بھی بڑی شان سے جھنڈا سلامی کرتے ہیں اور مسلمان ترنگا لہرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں آزادی لینے میں مسلمانوں کا حصہ کسی سے کم نہیں ہے ہندوستان میں امن و سلامتی محبت اور گنگا جمنی تہذیب کے لیے ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

آسام کی موجودہ ریاستی حکومت کے امتیازی تعصب بھرے رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حتمی این آر سی کے نفاذ کے باوجود چھ سال سے تین کروڑ سے زائد شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جن شہریوں کا حتمی این آر سی میں نام شامل ہے انہیں بلا تاخیر شناختی کارڈ جاری کیے جائیں اور انہیں حق شہریت سے محروم نہ کیا جائے۔ مفتی محمد مکرم احمد نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کاخیر مقدم کیا جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ بالغ ہونے کے بعد کسی فرد کی مذہبی آزادی، رہائش اور ذاتی زندگی سے متعلق فےصلے اس کی آئینی خود مختاری کا حصہ ہیں آئین ہند کے آرٹیکل21 اور آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ حاصل ہے الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے دو بہنوں نے اپنا بیان درج کرایا جس پر عدالت نے 22 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں کہا دونوں بہنیں بالغ ہیں اور انہیں اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مکمل قانونی اور آئینی حق حاصل ہے۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے کے بعد ریاستی حکومتوں کی منمانی پر بندش لگ جائے گی.

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande