
بھوپال، 10 اگست (ہ س)۔ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی مخالفت میں مدھیہ پردیش میں 16 سے 20 اگست تک ریاست گیر مہم چلائی جائے گی۔ مہم کے پہلے مرحلے میں تمام اضلاع میں صدر جمہوریہ اور گورنر کے نام میمورنڈم پیش کیے جائیں گے۔ اس کے بعد مختلف اضلاع میں عوامی رابطہ پروگرام منعقد کرکے دیگر برادریوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی بات چیت میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ مہم میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت کو ترجیح دینے کی بات کہی گئی ہے۔
بھوپال میں پیر کو کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود، اندور سے آئے مفتی جنید اور بھوپال کے مولانا معاز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یو سی سی سے متعلق اپنے اعتراضات پیش کیے۔ عارف مسعود نے مرکزی اور ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق یو سی سی کی دفعات سے مسلم برادری کے مذہبی اور شخصی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں اس کے اثرات دیگر برادریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
عارف مسعود نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ ان کے مطابق یو سی سی کی دفعات سے اس آئینی حق سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر وسیع بحث اور نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مسعود نے بتایا کہ انہوں نے مدھیہ پردیش اسمبلی میں اس معاملے پر ترمیمی تجویز پیش کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ اس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت نے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کو عوام کے درمیان لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مہم کے پہلے مرحلے میں 16 سے 20 اگست تک ریاست کے تمام اضلاع میں کلکٹر کے ذریعے صدر جمہوریہ اور گورنر کے نام میمورنڈم پیش کیے جائیں گے۔ ہر ضلع میں 21 رکنی وفد تشکیل دینے کا منصوبہ ہے۔ اس میں خواتین، نوجوان لڑکیوں اور نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ مسعود کے مطابق وفد میں تقریباً 15 سے 17 خواتین اور نوجوان لڑکیاں شامل ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں اضلاع میں عوامی رابطہ مراکز قائم کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ ان مراکز میں مختلف برادریوں اور سماجی طبقات کے نمائندوں کو مدعو کرکے یو سی سی کی دفعات اور ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مسعود نے کہا کہ یو سی سی کے خلاف قانونی متبادل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق وکلا کی ایک ٹیم اس سلسلے میں کام کر رہی ہے اور آگے مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں کے ساتھ مل کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہم کو کسی ایک تنظیم تک محدود رکھنے کے بجائے کئی تنظیموں کو ساتھ لانے کی کوشش کی جائے گی۔
مفتی جنید نے یو سی سی کے علاوہ بے روزگاری، او بی سی ریزرویشن، قبائلی مسائل اور خواتین کی سلامتی جیسے موضوعات بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ایسے طبقات کے مسائل سامنے لانے کی ضرورت ہے، جن کی بات مناسب طور پر نہیں سنی جا رہی ہے۔ انہوں نے ریاستی سطح پر ’رائٹ آف دی اَن ہَرڈ‘ کے نام سے پلیٹ فارم قائم کیے جانے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے محروم اور متاثرہ طبقات کے مسائل متعلقہ سطح تک پہنچانے کا کام کرے گا۔
فی الحال یو سی سی کی مخالفت میں مجوزہ مہم کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ منتظمین نے ریاست بھر میں میمورنڈم، عوامی رابطہ اور قانونی عمل کے ذریعے اپنی اعتراضات سامنے رکھنے کی بات کہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد