
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا نے پیر کو ہنگامہ آرائی کے درمیان ٹربیونل اصلاحات بل 2026 منظور کر لیا۔ اس میں قومی ٹربیونل کمیشن کی تشکیل اور مختلف ٹربیونلزکے چیئرپرسن اور ممبران کی تقرری اور سروس کی شرائط کے لیے یکساں نظام کی تجویز ہے۔
وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے بل پیش کیا۔ بل میں بیان کردہ مقاصد اور وجوہات کے مطابق 2021 میں نیا قانون تشکیل دیا گیا تھا ۔ اس میں ٹربیونلز کے چیئرپرسن اور ممبران کے انتخاب اور تقرری کے عمل اور ان کی سروس کی شرائططے کی گئی تھیں۔سپریم کورٹ نے اس کی کچھ دفعات کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ تجاویز عدالتی آزادی اور حکومت کو تفویض کر دہ اختیارات کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ، عدالت نے ٹربیونلز میں تقرریوں کو آزادانہ، شفاف اور موثر طریقے سے کرنے کے لئے نیشنل ٹربیونلز کمیشن کے قیام کی ہدایت دی تھی ۔
اس کے بعد سے، حکومت 2021 ایکٹ کو منسوخ کرکے ٹربیونل اصلاحات بل، 2026 متعارف کرانے کی تجویز کر رہی ہے۔ اس میں نیشنل ٹربیونل کمیشن کے قیام اور ٹربیونل کے چیئرپرسنز اور ممبران کی اہلیت، انتخاب، تقرری، تنخواہ، سروس کی شرائط اور برطرفی کا طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2015 میں حکومت نے ٹربیونلز کے کام کاج کو آسان اور بہتر بنانے کے لیے تبدیلیاں شروع کی تھیں۔ 2017 میں، کچھ ٹربیونلز کو ختم کر دیا گیا اور کچھ کو آپس میں ضم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ، ٹربیونل کے چیئرپرسنز اور ممبران کی تقرری، اہلیت اور مدت کار کو طے کرنے کے لئے حکومت کو ضوابط طے کرنے کا اختیار دیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد