
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ کانگریس پارٹی نے بہار میں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو لے کر ریاستی حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ پارٹی کے بہار انچارج کرشنا الاورو نے کہا کہ سیوان میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر اے کے-47 گولیاں چلائی گئیں، جب کہ کئی طلبہ اور نوجوانوں کو حراست میں لے کر ان کے ساتھ بربریت کی گئی ۔ کانگریس پارٹی نے پورے واقعہ کی تحقیقات، قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ حکومت کو اس پورے واقعہ کا جواب دینا چاہئے۔
پارٹی کی طرف سے بہار کے چھ شہروں میں بھیجی گئی فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں کے ارکان نے پیر کو یہاں ایک پریس کانفرنس کی۔ ان ارکان نے بہار میں طلبہ تحریک پر اپنے حقائق پیش کئے۔ کانفرنس میں کانگریس کے بہار انچارج کرشنا الاورو نے کہا کہ نوجوانوں پر اے کے 47 سے فائرنگ کی گئی۔ گولیوں سے کئی نوجوان زخمی ہوئے۔ بہار پولیس نے ریاست بھر میں طلبا اور نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ جب ملک بھر میں طلبہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں تو ان پر بربریت کے احکامات کسکے ذریعہ دیے جا رہے ہیں؟ بہار میں طلبا کے خلاف کی گئی کارروائی سے حکومت کے ارادے پر سوال اٹھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے صنعت کار گوتم اڈانی کو بہار میں ایک روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے زمین دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے طلبا اور نوجوان ،وزیر اعظم سے پوچھ رہے ہیں کہ اگر حکومت گوتم اڈانی کو ہزاروں ایکڑ زمین ایک روپے میں دے سکتی ہے تو بھرتی امتحانات کی فیس بھی ایک روپے کیوں نہیں کر سکتی۔ اے آئی سی سی نے بہار کے چھ شہروں میں چھ فیکٹ فائنڈنگ ٹیمیں بھیجی تھیں۔ ان ٹیموں کو طلبا، نوجوانوں، میڈیا اور انتظامیہ سے انٹرویو کرنے کا کام سونپا گیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طلبا کے خلاف ایسی کارروائی کیوں کی گئی اور کس سطح پر احکامات جاری کیے گئے۔
یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب نے الزام لگایا کہ بہار میں طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔ کئی نوجوانوں کو رات کو حراست میں لیا گیا اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ والدین کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ان کے بچے حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو ان کا انکاونٹر کر دیا جائے گا ۔فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کئی طلبا سے بات کی ۔ طلبا نے ان سے جھوٹے مقدمات میں پھنسائے جانے کی شکایت کی۔ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) ان طلبہ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔
این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے بھی طلبہ کو حراست میں لینے اور مبینہ ہراسانی کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی طلبا کو رات کے وقت اٹھایا گیا اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی شکایات ملی ہیں۔ طلبا نے الزام لگایا کہ انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے اور این ایس یو آئی ان کی لڑائی جاری رکھے گی۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے رکن اور اقلیتی کانگریس کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے سیوان واقعہ کی تفصیلابتاتے ہوئے کہا کہ ٹیم وہاں گئی تھی۔ ابتدائی طور پر، پولیس نے گولی چلانے کی تردید کی، لیکن بعد میں اے کے -47 سے گولی چلانے والے پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا۔
عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ تینوں زخمی نوجوان انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہیں اپنے حقوق مانگنے پر گولیاں ماری گئیں۔ راہل گاندھی کے ذریعہ وزیر داخلہ کو خط لکھے جانے اور بہار کانگریس کے احتجاج کے بعد ریاستی حکومت نے طلبا کے خلاف مقدمات واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے کہا کہ حکومت کو امتحانی مراکز کمشنریٹ یا ضلع کی سطح پر قائم کرنا چاہیے تاکہ طلبا کو سفر اور رہائش کے اضافی اخراجات برداشت نہپڑیں۔ انہوں نے غریب طلبا کے لیے بہتر آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے اور ایک منظم امتحانی کیلنڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کی ترجمان راگنی نائک نے دہلی اور بہار میں طلبا کے خلاف کارروائی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں جگہوں پر ہونے والے واقعات نے حکومت کی بے حسی کو سامنے لا دیا ہے۔ قبائلی کانگریس کے صدر وکرانت بھوریا نے سیوان احتجاج کے دوران اے کے 47 کے استعمال کو انتہائی سنگین واقعہ قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد