امراوتی میں مزدور کسانوں کا جیل بھرو احتجاج، ہزاروں افراد سڑکوں پر
امراوتی، 10 اگست (ہ س) مزدوروں، ملازمین اور کسانوں کے مختلف مطالبات کے لیے مشترکہ مزدور تنظیم ایکشن کمیٹی اور متحدہ کسان مورچہ کی جانب سے امراوتی ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے جیل بھرو احتجاج کیا گیا۔ چاروں لیبر کوڈ منسوخ کرنے سمیت 16 مطالبات کو لے کر
AMRAVATI WORKERS FARMERS JAIL BHARO PROTEST


امراوتی، 10 اگست (ہ س) مزدوروں، ملازمین اور کسانوں کے مختلف مطالبات کے لیے مشترکہ مزدور تنظیم ایکشن کمیٹی اور متحدہ کسان مورچہ کی جانب سے امراوتی ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے جیل بھرو احتجاج کیا گیا۔ چاروں لیبر کوڈ منسوخ کرنے سمیت 16 مطالبات کو لے کر مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مزدوروں اور کسانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر اتری اور احتجاج کیا۔

مظاہرین نے کم از کم 30 ہزار روپے ماہانہ اجرت نافذ کرنے، پرانی پنشن اسکیم بحال کرنے، کسانوں کی زرعی پیداوار کے لیے ضمانتی قیمت مقرر کرنے، کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل سروس میں شامل کرنے، بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے سمیت مختلف مطالبات پیش کیے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ چاروں لیبر کوڈ نافذ ہونے سے مزدوروں کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ رہے ہیں۔

ضلع کلکٹر دفتر کے احاطے میں بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہونے کے باعث کچھ دیر کے لیے صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ مختلف مزدور تنظیموں کے عہدیداروں، کارکنوں، ملازمین اور کسانوں نے احتجاج میں شرکت کی۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کی مزدور اور کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ان کی زرعی پیداوار کی مناسب قیمت دی جائے، بڑھتی ہوئی مہنگائی پر فوری قابو پایا جائے اور روزگار و سماجی تحفظ سے متعلق مسائل پر مرکزی حکومت سنجیدگی سے توجہ دے۔

مشترکہ مزدور تنظیم ایکشن کمیٹی اور متحدہ کسان مورچہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان مطالبات پر فوری توجہ نہیں دی تو احتجاج مزید تیز کیا جائے گا۔ مظاہرین نے کہا کہ مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ملک بھر میں وسیع عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔احتجاج کے پیش نظر ضلع کلکٹر دفتر کے اطراف پولیس کا بھاری بندوبست تعینات کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande