شاعری دل کی زبان ہوتی ہے
غالب اکیڈمی میں ماہانہ شعری نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال نئی دہلی ،10اگست (ہ س )۔ گزشتہ روز غالب اکیڈمی، نئی دہلی میں ماہانہ شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ پہلے لکھ
شاعری دل کی زبان ہوتی ہے


غالب اکیڈمی میں ماہانہ شعری نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال

نئی دہلی ،10اگست (ہ س )۔

گزشتہ روز غالب اکیڈمی، نئی دہلی میں ماہانہ شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ پہلے لکھنو¿ میں اچھا مشاعرہ ہوتا تھا۔دہلی میں لال قلعہ کا مشاعرہ بہت اچھا ہوتا تھا لیکن اب نہیں۔شاعری دل کی زبان ہوتی ہے اس میں فکر کی بلندی ہوتی ہے جن کو شاعری کا شوق تھا وہ عاشق ہوتے تھے۔شاعری میں جمالیاتی مسرت اور حسن ہوتا ہے۔ اس موقع پر اردو ہندی کے بہت سے شعرا نے اپنے کلام پیش کئے۔ان میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔

عبث ہے پوچھنا مجھ سے اتا پتا میرا

میں کائنات میں بھٹکا ہوا مسافر ہوں

ڈاکٹر جی آر کنول

بیچیں جو ضمیر اپنا یہ سیکھا نہیں ہم نے

ہم اہل وفا جھوٹ کا سودا نہیں کرتے

فرزانہ غزل

امیر شہر بہرہ ہوگیا ہے

ملے گا یہاں کیا فریاد کرکے

عبد الرحمان منصور

ان کو ہی ملتی ہے فرمان یہاں آزادی

جو لگاتے ہیں سدا دارو رسن کو دل سے

فرمان چودھری

گر مرے اختیار میں ہوتا

یہ کرشمہ بھی پیار میں ہوتا

شارق اعجاز عباسی

تمہاری بات کوئی اور کیوں کہے آخر

تمہارا درد ہے تو چیخ بھی تمہاری ہو

سندر سنگھ

ہوا میں زندہ بھی ہے آزادی

لبوں پہ نغمہ بھی ہے آزادی

طلعت سروہہ

ہمیں تو اپنی خبر نہیں ہے مدت سے

اور اس پہ تو نے بھی دل سے نکال رکھا ہے

فرید الدین فرید

شیشے کے مکانوں کا غم ناک فسانہ ہے

مشکل ہی بنانا ہے مشکل ہی بچانا ہے

ارون شرما صاحب آبادی

اشک آنکھوں سے گر پڑے تو سمجھ

رب نے دل کا غبار دھو رکھا ہے

چشمہ فاروقی

ظلم جب بے حساب ہوتا ہے

پھر نیا انقلاب ہوتا ہے

نعیم ہندوستانی

ساری دنیا کو ایک دن دکھا جاﺅں گی

اپنی سانسیں بھی تم پر لٹا جاﺅں گی

گل بہار گل

لہجہ موالیوں کا نہ تبدیل ہوسکا

مسند نشین ہو کے بھی فطرت نہیں گئی

مہدی رمن

سیدھی سیدھی بات کریں تو اچھا ہے

ہم جو رات کو رات کہیںتو اچھا ہے

آدتیہ بھٹر

متین امروہوی نے دبئی سے نشست کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔اس موقع سیما کوشک،سنتوش سمپرتی، پروین ویاس، منیر انجم، سنجیو دوا،انیمیش شرما، ریاض ملک،مہندر سنگھ،راج ویر سنگھ، ششروت پنت ذرہ،جوگندر سنگھ نے بھی اپنے اشعار پیش کئے۔اس موقع پر انور خاں غوری، سلیم دہلوی،شری کانت کوہلی، ابونعمان،کمال الدین اورہندوستان ٹائمس کے کالم نگار مینک آسٹن صوفی نے خصوصی شرکت کی۔آخر میں غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے وزات ثقافت حکومت ہند ،شعرااور سامعین کا شکریہ ادا کیااوربتایا کہ نثر ی نشست22اگست2026کو منعقد کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande