سپریم کورٹ نے راجہ رگھوونشی قتل کیس میں میگھالیہ حکومت سے سونم کی گرفتاری سے متعلق کاغذات طلب کئے
نئی دہلی، 9 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے میگھالیہ میں ہنی مون کے دوران اپنے شوہر کے قتل کی ملزم سونم رگھوونشی کی ضمانت پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت موخر کر دی ہے۔ جسٹس منوج مشرا کی سربراہی میں بنچ نے میگھالیہ حکومت سے کہا کہ وہ سونم رگھوونشی کی
सुप्रीम कोर्ट (फाइल फोटो)


نئی دہلی، 9 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے میگھالیہ میں ہنی مون کے دوران اپنے شوہر کے قتل کی ملزم سونم رگھوونشی کی ضمانت پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت موخر کر دی ہے۔ جسٹس منوج مشرا کی سربراہی میں بنچ نے میگھالیہ حکومت سے کہا کہ وہ سونم رگھوونشی کی گرفتاری سے متعلق کاغذات عدالت کے سامنے پیش کرے۔

میگھالیہ کی حکومت نے ٹرائل کورٹ کے ذریعے سونم رگھوونشی کو دی گئی ضمانت کو برقرار رکھنے کے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ آخری سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ چونکہ خاتون کو رہا کر دیا گیا ہے، اس لیے وہ ہائی کورٹ کے حکم پر روک نہیں لگا رہی بلکہ خاتون کو نوٹس جاری کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اعتراض کیا تھا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کے حکم کو صرف اس بنیاد پر برقرار رکھا کہ گرفتاری کے میمو میں متعلقہ قانونی شق میں غلطی تھی۔

سماعت کے دوران میگھالیہ حکومت کی طرف سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت برقرار رکھ کر غلطی کی ہے۔ مہتا نے کہا تھا کہ سونم رگھوونشی اور ان کے شوہر میگھالیہ میں ہنی مون کے لیے گئے تھے۔ وہاں شوہر کو منصوبے کے مطابق قتل کر دیا گیا۔ سونم رگھوونشی نے اپنے شوہر کو وادی میں قتل کر کے اس کی لاش کو گھاٹی میں پھینک دیا۔ اس کیس میں تین افراد ماخوز تھے۔ قتل کے بعد سونم رگھوونشی فرار ہو گئی اور اسے اتر پردیش سے گرفتار کر لیا گیا۔ مہتا نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے کی وجہ ٹائپنگ کی غلطی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ سونم رگھوونشی کے فرار ہونے کا خطرہ تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande