امریکہ کا کھیلوں کا نظام چمپیئنس بناتا ہے اور صنعتیں بھی
از قلم: سید سلیمان اختر، اسپَین میگزین، امریکی سفارتخانہ، نئی دہلی وَیدیہی وَیدیا چاہتی ہیں کہ ہندوستان میں کھیلوں سے وابستہ پیشہ ور افراد اپنی سوچ کو صرف تمغوں اور مقابلوں تک محدود نہ رکھیں۔ ممبئی کے امریکی قونصل خانہ کی جانب سے بھوپال میں منعقد
امریکہ کا کھیلوں کا نظام ۔۔۔۔ علامتی تصویر


گلوبل اسپورٹس مینٹورِنگ پروگرام کی سابق طالبہ وَیدیہی وَیدیا


از قلم: سید سلیمان اختر، اسپَین میگزین، امریکی سفارتخانہ، نئی دہلی

وَیدیہی وَیدیا چاہتی ہیں کہ ہندوستان میں کھیلوں سے وابستہ پیشہ ور افراد اپنی سوچ کو صرف تمغوں اور مقابلوں تک محدود نہ رکھیں۔ ممبئی کے امریکی قونصل خانہ کی جانب سے بھوپال میں منعقد ایک ہائبرڈ سیشن میں (جس میں 80 سے زائد کھلاڑیوں، کوچیز، ٹرینرس اور کھیلوں کے منتظمین نے شرکت کی) گلوبل اسپورٹس مینٹورنگ پروگرام کی سابق طالبہ وَیدیا نے روشنی ڈالی کہ امریکی کھیلوں کے نظام کس طرح کھلاڑیوں کی ترقی، سائنس، تعلیم اور کاروبار کو مربوط کرکے نہ صرف چمپئنس بناتے ہیں بلکہ پوری صنعت تشکیل دیتے ہیں۔

ان کے سیشن کا عنوان ”امریکہ کے کھیلوں کے نظام اور چمپئنس اور صنعتوں کو تشکیل دینے والی راہیں“ تھا۔ اس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ امریکہ اسکولوں، کالجوں، پیشہ ورانہ لیگس اور خصوصی مددگار نیٹ ورک کے ذریعے طویل مدتی کھیلوں کے نظام کیسے تشکیل دیتا ہے۔ امریکہ میں اپنے تجربات کی بنیاد پر وَیدیا کہتی ہیں کہ امریکی کھیلوں کی کامیابی ایسے نظام پر قائم ہے جو ہر سطح پر کھلاڑیوں کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ وَیدیا بتاتی ہیں ” امریکہ کھیلوں کے لیے تین جہتی نقطہ نظر اپناتا ہے : منظم، سائنسی، اور پیشہ ورانہ۔ امریکی کھیلوں کی صنعت بہت منظم ہے۔ اس شعبے میں آنے والے کھلاڑی عموماً اپنے پیشہ ورانہ سفر کے بارے میں واضح تصور رکھتے ہیں۔ اسکول کی ٹیموں سے لے کر قومی لیگس تک پرفارمنس سائنس کی اہمیت کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔“

امریکی طریقۂ کار صرف کھلاڑیوں کی تربیت تک محدود نہیں بلکہ اس میں بنیادی ڈھانچے، انتظامی نظاموں، اور پیشہ ورانہ مدد میں طویل مدتی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جو مجموعی طور پر کھیلوں کی صنعت کو مضبوط بناتی ہے۔

گلوبل اسپورٹس مینٹورنگ پروگرام سے کامیابی کے اصول

وَیدیا نے امریکی محکمۂ خارجہ کے کھیلوں کے عالمی اطالیقی پروگرام ( گلوبل اسپورٹس مینٹورنگ پروگرام )میں شرکت کی، جسے یونیورسٹی آف ٹینیسی کے سینٹر فار اسپورٹ، پیس اینڈ سوسائٹی کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ یہ پروگرام مختلف ممالک کے کھیلوں کے رہنماؤں کو امریکی سرپرستوں اور اداروں سے جوڑتا ہے تاکہ کھیلوں کی قیادت اور انتظام سے متعلق بہترین طریقوں کا تبادلہ کیا جا سکے۔

اس تبادلہ پروگرام کے دوران وَیدیا نے دیکھا کہ امریکی کھیلوں کے شعبے میں تحقیق، تکنیکی مہارت، اور پیشہ ورانہ انتظام کس طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے کا موقع دیا کہ امریکی ادارے ایسے طویل مدتی نظام کیسے قائم کرتے ہیں جو کھلاڑیوں اور کھیلوں کے پیشہ ور افراد دونوں کی مدد کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ” بات خواہ کوچنگ کی ہو، اسپورٹس سائنس کی یا ڈیٹا تجزیے کی، ان تمام شعبوں کو سائنسی انداز میں لیا جاتا ہے اور تحقیق کی بنیاد پر آگے بڑھایا جاتا ہے۔ یہ طریقۂ کار مضبوط تکنیکی پروگراموں کی تشکیل میں مدد دیتا ہے اور ایسے پیشہ ور افراد تیار کرتا ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ مہارت رکھتے ہیں۔“

اس پروگرام نے انہیں کھیلوں کے ممتاز رہنماؤں سے رابطے کے مواقع بھی فراہم کیے اور یہ سمجھنے میں مدد دی کہ امریکی ادارے ندرت اور پیشہ ورانہ ترقی کی حمایت کرنے والے نیٹ ورکس کیسے تشکیل دیتے ہیں۔

وَیدیا کہتی ہیں، ”مجھے ممتاز رہنماؤں سے رابطہ کرنے کا موقع ملا، جس نے ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے بارے میں میرے نقط? نظر کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ اس پروگرام نے مجھے ایسے مؤثر نظام اپنانے میں مدد دی جو ہندوستان میں ایک مضبوط کاروبار قائم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔“

امریکی کھیل نظام میں اسکولوں اور کالجوں کا کردار

امریکی ماڈل کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ تعلیمی ادارے کھلاڑیوں کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکول اور کالج کھلاڑیوں کے لیے منظم راستے فراہم کرتے ہیں اور کھیلوں کی تجارتی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ”اسکول اور کالج کی سطح پر کھیلوں کا انضمام کھلاڑیوں کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کا نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور اس میں ایک تجارتی پہلو بھی شامل ہے۔ بہت سے کھلاڑی کالج مقابلوں سے منتخب ہو کر قومی لیگس تک پہنچتے ہیں، جس سے یہ نظام قومی ٹیموں کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔“

انہوں نے معیاری بنیادی ڈھانچے تک رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں پیشہ ورانہ معیار کی سہولتوں سے آشنائی کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح کے مقابلوں کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہے۔

وہ وضاحت کرتی ہیں، ”تعلیمی اداروں میں دستیاب پیشہ ورانہ معیار کی کھیلوں کی سہولتیں اس ترقی اور پیش رفت کی حمایت کرتی ہیں۔“

اسپورٹس سائنس اور پیشہ ورانہ معاونت

وَیدیا کے مطابق، سہولتوں اور مقابلوں کے منظم راستوں کے علاوہ امریکی نظام کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ماہر پیشہ ور افراد کو کھلاڑیوں کی تربیت اور کارکردگی کے انتظام کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسپورٹس تجزیہ کار، ماہرِ نفسیات، ٹرینرس، اور دیگر ماہرین کوچیز کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بناتے ہیں اور کھیلوں کی صنعت کو مضبوط کرتے ہیں۔

وہ باخبر کرتی ہیں، ”امریکہ میں کھیلوں کے ماہرین، مثلاً اسپورٹس تجزیہ کاروں اور ماہرینِ نفسیات، کی اہمیت کو بخوبی تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ کوچیز ان ماہرین کی قدر کو سمجھتے ہیں اور انہیں تربیت اور مقابلوں کے عمل کا لازمی حصہ تصور کرتے ہیں۔“

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اشتراکی طریق? کار نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بلکہ کھیلوں کے انتظام اور تنظیمی ڈھانچوں میں بھی ندرت کو فروغ دیتا ہے۔

وَیدیا کہتی ہیں، ”ان ماہرین کو نظام میں شامل کرنے سے کھیلوں کی صنعت کے تنظیمی، انتظامی، اور تکنیکی شعبوں میں جدت پیدا ہوتی ہے۔“

کھیلوں کے مراکز اور کمیونٹی کی شمولیت

بھوپال کے سیشن کے دوران وَیدیا نے شرکاء کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دی کہ کھیلوں کو صرف مقابلے کے طور پر نہیں بلکہ کمیونٹی کے تجربے اور معاشی سرگرمی کے محرک کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں کھیلوں کے مراکز اکثر ایسے مقامات کے طور پر کام کرتے ہیں جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں اور کھیلوں سے وابستگی مزید بڑھتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں، ”میرا مقصد یہ تھا کہ شرکاء سمجھ سکیں کہ امریکہ میں اسکول اور کالج کی سطح کا کھیلوں کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ میں یہ بھی چاہتی تھی کہ وہ کھیلوں کے سماجی پہلو کو سمجھیں، جہاں کھیلوں کے مراکز صرف اسٹیڈیم نہیں بلکہ لوگوں کے یکجا ہونے کی جگہیں بھی ہوتی ہیں۔“

ان کے مطابق، سیشن میں ایسے طویل مدتی نظاموں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا جو کھیلوں کی پائیدار ترقی کو ممکن بناتے ہیں۔

وہ اپنی بات اس وضاحت کے ساتھ ختم کرتی ہیں ”میں چاہتی تھی کہ شرکاء یہ سمجھیں کہ کھیلوں میں کامیابی مضبوط نظاموں پر منحصر ہوتی ہے، صرف اولمپک کھیلوں پر توجہ دینے کے بجائے پائیدار کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل ضروری ہے۔ اس لیے کھیلوں کے مراکز اور تقریبات کو کمیونٹی کی شمولیت کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جا نا چاہیے۔“

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande